’عالمی بازار میں تیل کی قیمتیں بہت کم، پھر بھی ہندوستان میں کیوں اتنا مہنگا‘

0 1

نئی دہلی : کانگریس نے کہا ہے کہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت میں شدیدکمی آئی ہے لہذا حکومت کو اس کا فائدہ ملک کے عوام کو ملنا چاہئے۔ پٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتیں 40 فیصد کم ہونی چاہیئیں۔ کانگریس نے سوال کیا ہے کہ آخر عالمی بازار میں تیل کی قیمتیں بہت کم ہوئی ہیں تو پھر ہندوستان میں اتنا مہنگا کیوں فروخت کیا جا رہا ہے۔

کانگریس کے میڈیاسیل کے انچارج رنديپ سنگھ سرجےوالا نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں جس طرح کی کمی آئی ہے۔ اسی کے پیش نظر ہونےو الی پیٹرولیم اشیاء کی قیمتیں کم کرکے نومبر 2004 کی سطح پر لانا چاہئے۔ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل 38.9 ڈالر فی بیرل تھا۔ فی الحال خام تیل کی قیمتیں گزشتہ 16 سال میں سب سے کم 35 سے 38 ڈالر فی بیرل پر ہیں۔


سرجے والا نے کہا کہ حکومت پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں محض دو روپے 69 پیسے اور دو روپے 33 پیسے کی تخفیف کر رہی ہے۔ یہ موجودہ حالات میں ناکافی ہے اور اونٹ کے منہ میں زیرے کی طرح ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس وقت خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی آئی ہے جس کے مطابق پٹرول -ڈيزل اور رسوئی گیس کی شرحیں 35 سے 40 فیصد کم کی جانی چاہیئیں۔

کانگریس کے قومی ترجمان نے کہا کہ حکومت کو اس ریکارڈ تخفیف کا فائدہ ملک کے عوام کو دینا چاہئے، تاکہ انہیں کمر توڑ مہنگائی، اقتصادی بحران اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے کچھ راحت مل سکے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بہت کم ہے اس کے باوجود ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔

بعد ازاں کانگریس کے سینئر رہنما آنند شرما نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دنیا میں کساد بازاری ہے لیکن خام تیل کی قیمت 1991 کے بعد سب سے نچلی سطح پر ہے جبکہ ہمارے یہاں پٹرول ڈیزل کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا، "حکومت سے یہ ہمارا مطالبہ ہے کہ فوراً پٹرول۔ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور جو عالمی بازار میں قیمت کم ہوئی ہے،‘ اس کا فائدہ ملک کے صارفین کو فوری طور پر دیا جائے۔ حکومت محض منافع خوری کرے، کم قیمتوں کے ہوتے ہوئے بھی آسمان چھوتی قیمت پر ملک کے عوام کو پٹرول اور ڈیزل ملے…یہ قابل قبول نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس پر غور کرے گی”۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو