اس دن ہدایت کار مہیش بھٹ نے مصنفہ اندرا رائے کی ایک تحریر پڑھی تو اتنی پسند آئی کہ مبارک باد دینے ان کے گھر پہنچ گئے۔

اندرا رائے نہ صرف مضمون نگاری میں شہرت رکھتی تھیں بلکہ یونیسف کے تحت ہونے والے سماجی کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتی رہتیں۔ مہیش بھٹ نے اندرا رائے کے مضمون کی جہاں تعریف کی، وہیں ڈرائنگ روم میں سجی ہوئی چند تصاویر سے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یہ تصاویر ایک خوبرو اور پرکشش نوجوان کی تھیں جس کی گھنی زلفیں اس کے چہرے پر تھیں۔ داڑھی مونچھوں سے بے نیاز یہ نوجوان کسی ہیرو سے کم نہیں تھا۔

مہیش بھٹ نے نوجوان کے بارے میں استفسار کیا تو پتہ چلا کہ وہ اندرا رائے کا بیٹا راہل رائے ہے۔ مہیش بھٹ نے کسی تردد کے بغیر یہ بھی دریافت کر لیا کہ کیا راہو ل اداکاری کرے گا؟اندرا رائے نے جواب دیا، ’آپ خود راہل سے پوچھ لیں، وہ دہلی میں والد کے ساتھ رہتا ہے۔‘

مہیش بھٹ کو ایسا لگ رہا تھا کہ انہیں ان کی فلم کا ہیرو مل گیا ہے، وہ فلم جس کے لیے انہوں نے پہلے دیپک تجوری کو ہیرو بنانے کا ارادہ کیا تھا لیکن پھر اندرا رائے کے گھر میں بیٹھے بیٹھے اسی لمحے دیپک تجوری کو بطور سائیڈ ہیرو پیش کرنے کا ارادہ کر لیا۔

یہ وہی فلم تھی جو مہیش بھٹ اپنی زندگی پر بنانا چاہتے تھے۔ جب وہ صرف 19 برس کے تھے تو کم سن دوشیزہ لورین برائٹ کی محبت میں گرفتار ہوئے۔ عشق کی یہ آگ دونوں طرف برابر ایسی لگی کہ ایک سال کے اندر دونوں نے لاکھ مخالفتوں کے باوجود بیاہ رچا لیا۔ اور پھر لورین برائٹ کرن بھٹ بن گئیں۔ جن کے آنگن میں پوجا اور راہل بھٹ جیسے دو پھول بھی کھلے لیکن پھر کرن اور مہیش بھٹ کے درمیان اختلافات ہوئے تو راہیں جدا ہو گئیں۔ہدایت کار مہیش بھٹ اپنی زندگی کی اس عاشقی کو بھول نہیں پائے تھے، جس کے عشق کے سمندرکو انہوں نے اور کرن بھٹ نے پار کیا تھا۔ اب یہ ان کی خوش قسمتی ہی کہیے کہ ایک دن ’ٹی سیریز‘ کے مالک گلشن کمار خود ان تک پہنچے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ان کے ساتھ میوزیکل رومانی فلم بنانا چاہتے ہیں، جس کے لیے انہوں نے لگ بھگ چھ سے سات گیت بھی تیار کر لیے تھے۔ جب موسیقار جوڑی ندیم شرون نے یہ گانے سنائے تو مہیش بھٹ کے ذہن میں گلشن کمار کے کہے ہوئے الفاظ گردش کرنے لگے کہ یہ فلم ایسی میوزیکل ہو گی، جو بھارتی فلموں میں انقلاب برپا کر دے گی، جس کا ہر گیت ہر ایک کی زبان پر ہو گا اور ہر نغمہ کامیابی کی نئی مثال قائم کر دے گا۔

واقعی گانے تھے ہی ایسے کہ جوہر شناس مہیش بھٹ کو لگا کہ گلشن کمار نے جو کہا تھا، وہ سچ ثابت ہو گا۔ جبھی انہوں نے مدھر اور رومانی گانوں کی مناسبت سے اس فلم کے لیے آزمائے ہوئے اداکاروں کے بجائے نئے اداکاروں کو متعارف کرانے کا ارادہ کر لیا۔

ادھر راہل رائے کو جب مہیش بھٹ کا فون آیا تو انہیں تو یقین ہی نہیں آیا کہ ان کے پاس خود چل کر ہیرو بننے کی پیش کش آئی ہے۔ مہیش بھٹ نے بمبئی آنے کا کہا تو اگلے چند دنوں میں راہل رائے کو فلم کے لیے منتخب بھی کر لیا گیا۔

مہیش بھٹ کو راہل رائے میں صرف ایک کمزوری یہ لگی کہ ان کا لب و لہجہ تھوڑا انگریزی تھا۔ اسی لیے دیسی انداز دینے کے لیے راہل رائے کے لیے ادتیہ پنجولی کی آواز کی ڈبنگ کا فیصلہ ہوا۔ دوسری جانب راہل رائے صرف یہ بتایا گیا کہ فلم چونکہ رومانی ہے تو وہ خود کو بطور رومان پرور ہیرو کے تیار کریں۔

مہیش بھٹ کی خواہش تو تھی کہ بیٹی پوجا بھٹ کو ہی بیوی کرن بھٹ کے کردار میں موقع دیں لیکن پوجا بھٹ نے معذرت کر لی۔ ایسے میں مہیش بھٹ کو لمبی چوڑی اور سانولی لڑکی انوا گروال کا خیال آیا جن سے ایک پارٹی میں ملاقات ہوئی تھی۔

ابتدا میں مہیش بھٹ کی جانب سے ملنے والی پیش کش کو وہ رد کر چکی تھیں لیکن اب جب کہ مہیش بھٹ پر دھن سوار تھی فلم بنانے کی تو انہوں نے انو اگروال کو راضی کر ہی لیا۔

فلم کو نام دیا گیا ’عاشقی‘ کا جس کی بیشتر عکس بندی اسی کالج میں ہوئی، جہاں کرن اور مہیش بھٹ کی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ عکس بندی تیزی سے ہو رہی تھی۔ ادھر فلم کے گیت بن کر تیار ہو چکے تھے۔ کمار سانو، اڈت نرائن، انورادھا پوڈوال اور نتن مکیش کی آواز میں لگ بھگ 12 گانے مکمل ہو چکے تھے۔ انہیں سننے کے بعد مہیش بھٹ کیا، گلشن کمار بھی جھوم اٹھے۔

اس زمانے میں فلم کی نمائش سے پہلے گیتوں کو جاری کرنے کا رواج تھا۔ اسی لیے مہیش بھٹ نے فلم بینوں کا ہیرو اور ہیروئن کے حوالے سے تجسس برقرار رکھتے ہوئے کیسٹ کور پر راہل رائے اور انو اگروال کی وہ تصویر دی، جس میں دونوں کے چہرے رین کوٹ کے پیچھے چھپے ہوئے تھے۔

حسبِ توقع ’عاشقی‘ کے گیتوں نے تہلکہ مچا دیا۔ ’ٹی سیریز‘ کے تو سمجھیں وارے نیارے ہو گئے۔ موسیقار ندیم شرون اور نغمہ نگار سمیر کے گانوں کی آڈیو کیسٹ کی فروخت ایک کروڑ تک جا پہنچی۔

نمائش سے پہلے اس قدر پذیرائی کا خواب مہیش بھٹ کا ہی نہیں گلشن کمار کا بھی سچ ثابت ہوا۔ بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ ندیم شرون نے ’عاشقی‘ میں دو پاکستانی نغموں پر بھی ہاتھ صاف کیے۔ ایک تصور خانم کا گایا ہوا ’تو میری زندگی ہے‘ اور دوسرا فلم ’دوریاں‘ کا ’بس ایک ترے سوا‘ نمایاں ہے۔

یہی نہیں پاکستان تک میں جب ’عاشقی‘ کے گیت مشہور ہوئے تو یہ بھی کہا گیا کہ محمد علی شہکی نے یہ گنگنائے ہیں۔ یہ قیاس آرائی کمار سانو کی گلوکاری پر کی گئی، جو اس وقت تک مشہور نہیں ہوئے تھے لیکن ’عاشقی‘ کے گانوں نے ان کی قسمت کا ستارہ بھی بلندی کی جانب پہنچا دیا۔

’عاشقی‘ 17 اگست 1990 کو جب سنیما گھروں میں لگی تو ہر سینیما ’ہاؤس فل‘ کے بورڈ سے سج رہا تھا۔ صرف 30 لاکھ روپے کی لاگت سے تیار اس تخلیق نے اس زمانے میں پانچ کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار کیا۔ نمائش کے بعد تو اس کے البم کی فروخت میں اور پر لگ گئے۔

ٹی سیریز کے بھوشن کمار نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ آج تک کسی فلم کے گانوں کی اتنی کیسٹیں نہیں بکیں جتنی عاشقی کی۔ انڈیا ٹو ڈے کی ایک خبر کے مطابق عاشقی کی کل دو کروڑ سے کیسٹیں فروخت ہو چکی ہیں جو کسی بھی بھارتی فلم کا ریکارڈ ہے۔

اگلے سال فلم فیئر ایوارڈز ہوئے تو ’عاشقی‘ نے ’گھائل‘ کے بعد سب سے زیادہ سات نامزدگیاں حاصل کیں، جن میں چار ایوارڈز جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ البتہ یہ سارے ایوارڈ موسیقی سے جڑے تھے یعنی بہترین موسیقار، گلوکار، گلوکارہ اور نغمہ نگار کے۔

آٹھ ماہ کے مختصر سے عرصے میں تیار اس فلم کی نمائش کے وقت تک راہل رائے کو کسی ایک بھی مووی کی پیش کش نہیں ہوئی لیکن پھر جب ’عاشقی‘ سپر ہٹ ہوئی تو دو ہفتوں کے دوران انہیں 60 فلموں کی پیش کشیں ہوئیں۔

ان میں سے 47 کو انہوں نے قبول کیا۔ راہل رائے کی اداکاری سے زیادہ ان کا ’ہیر سٹائل‘ سب سے زیادہ شہرت پا گیا۔ 90 کی دہائی میں ہر نوجوان ان کے ’ہیر سٹائل‘ کو رکھنا فخر محسوس کرتا۔ بدقسمتی سے 1997 تک راہل رائے کا کیرئیر کچھ غلط فلموں کے انتخاب اور نئے اداکاروں کی آمد کے بعد تیزی کے ساتھ تنزلی کا شکار ہو گیا۔

عاشقی‘ کی اسی بےمثال کامیابی کے بعد بھٹ پروڈکشن نے 2013 میں ’عاشقی 2‘ بھی بنائی، جس نے کہانی، میوزک اور فنکاروں کی اداکاری کی بنا پر ایک بار پھر شہرت کے نئے ریکارڈز قائم کیے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کہ 90 کی دہائی کی ’عاشقی‘

اپنے گیتوں کی وجہ سے آج بھی ممتاز اور منفرد تصور کی جاتی ہے اور اس کے گیتوں کے بےشمار ری مکس بن چکے ہیں۔