احمد آباد۔ ۶؍مارچ: احمد آباد کی ۲۳ سالہ عائشہ کی خودکشی کو لے کر نئے خلاصے ہورہے ہیں، اسی درمیان عائشہ خودکشی معاملے میں عائشہ کے والد لیاقت اور ان کے وکیل نے عدالت میں وہ خط پیش کیا جسے خودکشی سے قبل عائشہ نے اپنے شوہر کے نام لکھا تھا، اس میں عائشہ نے اپنی پوری آپ بیتی درج کر رکھی ہے۔

دراصل گزشتہ ہفتے احمد آباد کے سابرمتی ریور فرنٹ سے سابرمتی ندی میں کود کر خودکشی کرنے والی عائشہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں اس معاملے کو لے کر غم وغصہ تھا، لوگ سوشل میڈیاکے ذریعے عائشہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے لگے تھے اور جسٹس فار عائشہ سے ٹرینڈ بھی چلانا شروع

کردیا تھا، اس کے بعد پولس حرکت میں آگئی تھی، پولس نے اس معاملے میں شکایت درج کرتے ہوئے راجستھان کے پالی سے عائشہ کے شوہر عارف خان کو گرفتار کرلیا تھا۔ اسی درمیان سنیچر کو خودکشی معاملے میں جب عارف کی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد اسے پیش کیا گیا تبھی عائشہ کے والد لیاقت کے وکیل ظفر پٹھان نے عدالت میں عائشہ کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی تحریر پیش کی، یہ خط عائشہ نے عارف کو لکھا تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ تم نے اپنی کرتوتوں کو چھپانے کےلیے میرا نام آصف کے ساتھ جوڑ دیا

جبکہ آصف میرا مخلص دوست اور بہترین بھائی ہے۔ خط میں عائشہ نے عارف کے ذریعے خود پر کیے گئے مظالم کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ عائشہ نے لکھا ہے کہ تم نے مجھے چار دن کےلیے کمرے میں بند کردیا تھا، نہ کھانا دیا تھا نہ پانی دیا اور میں اس وقت حمل سے تھی، تب بھی تم نہیں آئے میری مدد کےلیے اور جب آئے تب مجھے خوب مارا پیٹا تھا جس کی وجہ سے میرا چھوٹا آرو آصف مر گیا اب میں اس کے پاس جارہی ہوں۔ اس خط میں عائشہ نے لکھا ہے کہ میں نے تمہیں دھوکہ نہیں دیا، تم نے ہنستی کھیلتی زندگی کو اجاڑ دیا، آئی لویو کوکو میں غلط نہیں تھی، بلکہ

تمہارا برتائو غلط تھا، تمہاری آنکھوں پر میں فدا تھی، لیکن کیوں یہ میں آئندہ زندگی میں ہی بتا پائوں گی، اتنا لکھنے کے بعد عائشتہ لکھتی ہے لو یو، یور وائف عائشہ عارف۔ ادھر عارف کے تین دن کا ریمانڈ ختم ہوتے ہی پولس نے اسے کورٹ میں پیش کیا، پولس نے کہاکہ اب ان کے پاس عارف کے خلاف ثبوت ہے جس کی وجہ سے انہیں عارف کی پولس کسٹڈی نہیں چاہئے، اور کورٹ نے عارف کو جوڈیشیل کسٹڈی کےلیے بھیج دیا۔ اس کے ساتھ ہی خودکشی م عاملے کی تحقیقات کررہی ریور فرنٹ پولس کو عائشہ اور عارف دونوں کا ہی موبائل ہاتھ لگ چکا ہے، اب پولس کو یہ خط بھی مل گیا ہے جس کی اب فارینسک جانچ ہونے کے بعد چارج شیٹ فائل کی جائے گی۔ عائشہ کے

اہل خانہ کا یہ بھی الزام ہے کہ عارف کسی اور لڑکی کے ساتھ محبت کرتا تھا، اب پولس موبائل ڈاٹا کے ذریعے یہ بھی تحقیق کرنے میں مصروف ہے کہ عارف کا کسی اور لڑکی کے ساتھ چکر چل رہا تھا، اور اگر چل رہا تھا تو وہ لڑکی کون ہے اور کیا اسی کی وجہ سے عارف عائشہ کو پریشان کرتا تھا اور جہیز کے لیے پیسے لانے کا دبائو ڈالتا تھا۔ واضح رہے کہ تین سال قبل جب عائشہ کی شادی ہوئی تھی تو عائشہ کے والد نے گھر بیچ دیا تھا تاکہ بیٹی کی شادی دھوم دھام سے ہوسکے، لیکن عائشہ کے شوہر عارف کا دل پھر

بھی نہیں بھرا وہ مسلسل جہیز کا مطالبہ کرتا رہا۔ عائشہ نے ۲۰۲۰ میں عارف اور اس کے اہل خانہ کے خلاف جہیز کےلیے ستائے جانے کا معاملہ احمد آباد کے وٹوا پولس تھانے میں درج کروایا تھا، جسے لے کر عارف اور اس کے اہل خانہ کو پولس نے گرفتار بھی

کیا تھا، اس کے بعد عارف کے اہل خانہ بیل پر چھوٹ گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق عارف نے عائشہ سے شادی ضروری کی تھی لیکن اس کا راجستھان کی ہی ایک لڑکی سے افیئر تھا، وہ عائشہ کے سامنے ہی اپنی گرل فرینڈ سے ویڈیو کال پر بات کرتا تھا، اور جو پیسے وہ عائشہ کے گھر والوں سے جہیز کے نام پر لیتا تھا وہ اپنی اسی محبوبہ پر نثار کرتا تھا، اسی وجہ سے عائشہ ڈپریشن کا شکار تھی مگر اس کی زندگی کی

ڈور اس وقت ٹوٹ گئی جب پیٹ میں ہی عائشہ کے بچے کی موت ہوگئی اور اسی سے دلبرداشتہ ہوکر گزشتہ روز اس نےسابرمتی میں یہ کہتے ہوئے چھلانگ لگا دی کہ ’اے پیاری ندی مجھے خود میں سمالے‘۔

بشکریہ ممبئی اردو نیوز