فلمساز، اداکار اور سماجی کارکن عائشہ سلطانہ پر ملک سے غداری کا کیس درج کرا کر لکشدیپ یونٹ کے بی جے پی صدر عبدالقادر خود بری طرح سے مشکل میں پھنستے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا یہ عمل پارٹی لیڈروں کو ہی پسند نہیں آ رہا ہے اور نتیجہ کار لکشدیپ کے 15 بی جے پی لیڈران و کارکنان نے پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ 12 بی جے پی لیڈروں کا دستخط شدہ خط بھی بی جے پی یونٹ صدر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

دراصل عبدالقادر نے عائشہ سلطانہ کے خلاف کورتّی پولس اسٹیشن میں شکایت کرتے ہوئے دفعہ 124 اے (ملک سے غداری) اور 153 بی (نفرت آمیز بیان) کے تحت کیس درج کرایا تھا۔ اس عمل کے خلاف لکشدیپ کی کئی معزز شخصیتوں نے آواز اٹھائی تھی، اور اب بی جے پی میں ہی طوفان برپا ہو گیا ہے۔ خبر رساں ادارہ ’اے این آئی‘ کے مطابق استعفیٰ دینے والے بی جے پی لیڈروں میں عبدالحمید بھی شامل ہیں جو کہ بی جے پی کے ریاستی سکریٹری ہیں۔ انھوں نے یونٹ صدر عبدالقادر کو خط لکھ کر کہا کہ ’’آپ نے چیتل آتھ کی بہن کے خلاف جھوٹی اور نامناسب شکایت درج کی ہے۔ ہم اس پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہیں اور اپنا اپنا استعفیٰ دیتے ہیں۔‘‘

ذرائع کے مطابق 12 لیڈران و کارکنان کے ذریعہ دستخط شدہ خط عبدالقادر کو بھیجا گیا ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ ’’لکشدیپ میں بی جے پی اس بات سے پوری طرح واقف ہے کہ کس طرح موجودہ حکمراں پٹیل کی حرکتیں عوام مخالف، جمہوریت مخالف ہیں اور لوگ اس سے کافی پریشان ہیں۔‘‘ ان لیڈروں نے عائشہ سلطانہ کی حمایت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’دوسروں کی طرح عائشہ نے بھی میڈیا میں اپنی رائے ظاہر کی۔ پولس میں آپ کی شکایت کی بنیاد پر عائشہ سلطانہ کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ آپ نے چیتل آتھ کی بہن کے خلاف جھوٹی اور نامناسب شکایت درج کی ہے اور اس کے اہل خانہ اور اس کے مستقبل کو برباد کر دیا ہے۔‘‘