جہیز کامطلب سامانِ ضرورت یعنی چوبیس گھنٹے کی گھر یلو زندگی میں جن سامانوں کی عموماً ضرورت پڑتی ہے، شادیوں کے موقع سے لوگ اپنی بچی کو رخصت کرتے وقت ایسی ضرورت کی چیزیں دیا کرتے ہیں ،حالانکہ شرعاً ایک بیٹی والے کو اِس کی بھی تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جس طرح نفقہ سکنیٰ اور لباس وغیرہ کا نظم کرنا لڑکے کی ذمہ داری ہے ،اسی طرح چوبیس گھنٹے کی گھریلو زندگی میں کِن کِن سامانوں کی خاص ضرورت ہوگی ،اِس کا انتظام کرنا بھی لڑکے کی اپنی ذمہ داری ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بیٹی کی محبت میں اُس کے آرام وراحت کی خاطر دل جوئی کے لئے رخصتی کے وقت بیٹی کے ساتھ کچھ چیزیں لوگ بھیج دیتے ہیں، مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ لڑکے والے اِس کو اپنا حق سمجھنے لگیں۔ جس کا پورا کرنا ہر حال میں لڑکی والوں کی کوئی شرعی یا سماجی ذمہ داری ہو۔

اولاً تو جہیزکی ادائیگی لڑکی والوں کے فرائض میں شامل نہیں وہ جو کچھ بھی دیتے ہیں اپنے اخلاق کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔ لیکن بُراتب ہوتا ہے جب لڑکے والے شادی کے روز اور اس کے بعد تک لڑکی والوں سے نِت نئے قیمتی سامانوں کا مسلسل مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ بعض شریف لوگ یاحالات کا ستم رسیدہ اپنی عزت بچانے کی وجہ سے گھر،مکان، زیورات تک کو فروخت کرکے ان کے مطالبے پورے کرتے ہیں، تاکہ میری جگ ہنسائی نہ ہو اور کل کو میری بیٹی کو اِس کی مار نہ جھیلنی پڑے، یاپھر لانبی فہرست کی تاب نہ لا کرخودکشی کرلیتے ہیں یا کبھی حسب ِ توقع جہیز ساتھ نہ لانے کی پاداش میں بیٹی کو سسرال میں موت کی بھینٹ چڑھ جانا پڑتا ہے، اِس طرح یہ رشتہ محبتوں کے بجائے نفرتوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔یہی وہ موقع ہوتاہے جب لوگ بیٹی کو زحمت ماننے لگتے ہیں کہ اے کاش! نہ بیٹی ہوتی نہ یہ دن دیکھنا پڑتا :
جہیز بارِ گراں بن گیا ہے ملت پر
پڑی ہیں بیٹیاں پاﺅں کی بیڑیاں بن کر

تلک بھی سماجی روایتوں کا لازمی حصہ بنتا جارہا ہے بلکہ بن گیا ہے، تلک کے نام پر لڑکوں کی بولی لگتی ہے، جو شخص جتنی قیمت لگائے ،لڑکا اُس کا ہوگا،تیزبھاﺅ کی لالچ میں بعض لڑکے والے ستر گھروں کو جھانکتے اور تاکتے ہیں، لڑکے کی شادی کو روک کر کئی کئی برس تک لڑکی والوں کی مالیت کو ناپتے ہیں، خون اور ہڈی دیکھنا نہ اُن کا مقصد نہ اس کی ضرورت، جہاں ان کو گود ا نظر آتا ہے، ”ہاں“ وہیں کہتے ہیں اور شرطیں مسلسل لاگو رہتی ہیں۔ غریب و بے بس لڑکی والوں کے لئے یہ مرحلہ اتنا تکلیف دہ ہوتا ہے جو بیان سے باہر ہے اور یہ سب بھی تب ہوتا ہے جب بچی پڑھی لکھی نوکری پیشہ ،صاف رنگ، قبول صورت ہوتی ہے ا ور اگروہ بچی دو قلم کم ہے ،تو پھر ماں باپ کے دل سے پوچھئے کہ ع

”حیات ہوتے ہوئے بھی احساسِ حیات نہ رہا“
حدتو تب ہوجاتی ہے جب بمشکل تمام لڑکی والے نقدی سمیت مانگ ڈمانڈ دینے پرخود کو راضی کرلیتے ہیں ،مگر جو شرطیں لاگو ہیں اس کے نتیجے میں جوتا سے موزہ اور بنیان سے نیکر تک ساری چھوٹی بڑی چیزیں برا نڈیڈ دینے کی بات آتی ہے، کاش! کبھی بھول سے بھی دل میں یہ خیال آجاتا کہ میں خود برانڈیڈ نہیں، میری عادت ، میرے اخلاق اور زندگی کے تمام طور طریقے آڈنری ہیں۔کہیں سے دینداری جھلکتی ہے اور نہ کہیں سے سرکارمدینہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی غلامی نظر آتی ہے۔ کبھی انہیں بھی معلوم ہوتا کہ میرا جو آخری لباس ہوگا وہ کفن کے نام پر نن برانڈیڈ ہوگا۔ اکثر ایسا وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں اپنے نبی سے سچی محبت نہیں ہوتی یا پھر وہ لوگ جنھیں دنیا اور سسرال کے مال پرہی کامل بھروسہ ہوتا ہے ۔ع
کاش آئے وہ بھی دن کہ ہر نوجواں کہے
ہم کو نہیں ہے کوئی ضرورت جہیز کی

تقریبات میں سادگی برتئے:
انداز ہ کیجئے!میڈیم درجے کی لڑکی کے باپ سے کہا جاتا ہے کہ کھان پان میں کوئی کومپرمائز نہیں،اب میری آخری خواہش ہے کہ میرے جو بھی دو چار پانچ سو مہمان آپ کے یہاں جائیں، آپ اُن کو خوش کردیجئے، آپ تو جانتے ہی ہیں لڑکے کو لڑکی ، باپ کو جہیز اور باراتی کو کھاناچاہئے…. گویا یہ دلیل ہوئی….ظاہر ہے ایک سو تک کو تو بمشکل تمام قرضہ پینچا کرکے تو خوش کیا جاسکتا ہے مگر پانچ سو کو سرکے بال اور ہاتھ پاﺅں کے ناخن بیچ کر بھی خوش نہیں کیا جاسکتا ۔ چونکہ باراتی کا کھانا برانڈیڈ نہیں ہوتا ۔

برانڈیڈ تو ولیمہ ہوتا ہے، مگر مشکل یہ ہے کہ ولیمہ میں اُن پیسوں کو خرچ ہونا پڑے گا جو بڑی مشکل اور محنت سے جہیزکے نامِ پاک سے جیب ِ محترم کی زینت بنے ہیں۔ معاف کیجئے! فضول خرچی سے بچئے، خواہشات کا نہ کوئی معیار ہے اور نہ اُس کی کوئی انتہا۔ تقریبات پہ سادگی کا رنگ چڑھائیے، زیادہ ڈیزائن اور مختلف طرح کے رنگ سے اصلی شکل بگڑ جاتی ہے۔ کام ایسا ہو جو بے راہ روی ،ناقدری، عیاشی اور غریبوں کی تحقیر کو ظاہر نہ ہونے دے، عنداللہ بھی اور عندالناس بھی۔ اگرآپ کی صالحیت اور نیک پن کا اللہ کے بندوں نے احترام کیا تو سمجھ لیجئے آپ اپنے اصل مالک کی نگاہ میں بھی نیک ہیں، نیکو کار کے لئے ہی جنت بنائی گئی ہے،وہاں آپ کی ساری خواہشیں پوری کی جائیں گی ،جن پر آنکھ شہادت دے گی، کان گواہی دیں گے اور دل انہیں ہَل مِن مَّزِید کے ساتھ قبول کرے گا۔

آخر حل کیا ہے؟
شادیوں کو آسان بنائیے اور یہ آسان تب ہوگی جب سماج و معاشرہ سے، جہیز تلک، تقریبات میں فضول خرچی، سامان جہیز سمیت نقدی لین دین کو ختم کیا جائے ۔ ” جہیز ہٹاﺅ مشن“ کے عنوان سے ایک مرکزی کمیٹی بنائیے ،تمام بلاکوں میں اس کی ذیلی شاخیں قائم کیجئے۔ کمیٹی میں نوجوان سمیت بلاک کے بااثر طبقے کو جوڑا جائے۔ مرکزی کمیٹی کے تحت عورتوں کی کمیٹیاں بھی زونل سطح پر تشکیل دی جائیں ۔ ہر بلاک میں رضاکار ساتھی مرکزی کمیٹی کے زیر نگرانی اجتماع بلائیں، عورتوں کی الگ مردوں کی الگ، جس میں بیٹی کی عظمت و مرتبہ، اس کی ذمہ داریاں ،سماج کو اس کی ضرورت، سماج میں جہیز کے لالچیوں کا بائکاٹ ،جہیز لینے والوں کے نکاح کا بائکاٹ، معاشرے میں بیٹی کی موجودہ حالت ذمہ دار کون؟ بیٹیوں کی دینی تعلیم وتربیت کے فوائد، بیٹیوں کا میکے پر حق ہے،وراثت میں بیٹیوں کا حصہ ، صحابیاتؓ کے واقعات اور عورتوں پر اسلام کے اثرات واحسانات جیسے موضوعات پرگفتگو کرائی جائے۔

ماہ دوماہ میں مرکزی کمیٹی کے زیر اثر شاخوں کے ذمہ داروں کو جوڑا جائے اُن سے کار گذاری لی جائے، اور علاقے کے لئے اُن کو کام دیا جائے،اُس میٹنگ میں اخلاص نیت پرمذاکرہو،انہیں بتایا جائے کہ یہ امت خیر امت ہے، امر بالمعر وف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری جن کو سونپی گئی ہے۔ منکر کو روکنے کے تین طریقے ہیں: ہاتھ سے برائی کو روکنا، زبان سے روکنا اور کم ازکم دل دل اُس برائی سے نفرت کا اظہار کرنا اِن تینوں طریقوں کی مثالوں کے ذریعہ وضاحت کی جائے تاکہ جذبات سے بالاتر ہوکر یہ سمجھ میں آجائے کہ اتنا بڑا کام راتوں رات ہونا نہیں ہے۔ رضاءکار حضرات منمانی ،زبان درازی ، عجلت پسندی اور طاقت کے نشہ سے خود کو بچائیں۔ ہر علاقے کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے ،اس میں بسنے والے انسانوں کے مراج ومذاق بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس لئے جہیز ہٹاﺅ مشن کی دعوت پیش کرتے وقت فرق مراتب کاخیال اور حکمت ودانائی کا استعمال ضروری ہے۔ ایسا موقع بھی نہ آنے دیں کہ لوگوں میں بحث کا موضوع بن جائے: ع
”سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر“

جہیز ہٹاﺅ ابھیان:
بعض ریاستوں میں سرکاری سطح پر جہیز ہٹاﺅ مہم شروع کیاگیا ہے ۔یہ اچھی کوشش ہے ،مگر جتنا زوردار نعرہ لگایاجارہا ہے ،قانون اپناکام اُس تیزی کے ساتھ نہیں کر پارہا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے کھلے موڈ مزاج کے ساتھ معاملہ ڈیل ہوتا تھااور اب ذرا ڈھکے چھپے، مگر سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ جنگ کے دوران جب فوجی دستہ اپنی سیٹنگ کرلے تو جنگ جیتنے کی امید مت رکھئے۔یہی ہورہا ہے،صرف فوٹو کچھانے اور اشتہار بازی سے منکرات کو نہیں روکا جاسکتا ۔ آپ دیکھ لیجئے ! ایک طرف” بیٹی پڑھاﺅ، بیٹی بڑھاﺅ“ ، ”اپنی ہو یاانجان، بیٹی کو ملے سمّان“کا فقرہ پڑھاجارہا ہے تو دوسری طرف بیٹیوں کے ساتھ اتیہ چار کاگراف بڑھتا جارہا ہے۔۶۳ہزار ڈوری ایکٹ کے کیسیز،ہرپندرہ منٹپرریپ، ہر سولہ منٹ پرمڈر،چارہزار آٹھ سو سولہ بچیاں پرڈے پیٹ میں ماردی جارہی ہیں۔ یہی ہے بیٹیوں کا سمان ؟ جب ریپ کے واقعات سے ملک ہر جگہ شرم سار ہونے لگا تب اُس کے لیے پھانسی کی سزا مقرر کی گئی ہے۔اپنا احساس یہ ہے کہ منکرات کی روک تھام کے لیے سب سے بڑا قانون خوف خدا ہے ،اسکے بغیر جرائم پرقابوپانامشکل ہے۔جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منکرات کو روکنے کے جو تین درجے بتلائے ہیں ،انہیں عمل میں لائے بغیر مہم میں کامیابی ناممکن ہے ۔
وہی چراغ جلاﺅ تو اُجالے ہوں
فضول سمجھ کر بجھادیا ہے جن چراغوں کو

بیٹی اللہ کی رحمت:
قرآن کریم نے حضرت مریمؑ کے تذکرے میں بیٹی کے تعلق سے فرمایا کہ ”لڑکا ، لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔“مفسرین نے اس کاصاف مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ بیٹی میں اللہ نے جو کمالات ،خوبیاں اور برکتیں رکھی ہیں ،بیٹا اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔حضرت مریمؑ کا پورا واقعہ پڑھ ڈالئے!اندازہ ہوگا کہ ایک بیٹی کی پیدائش ملت اسلامیہ کے لیے کتنی بڑی رحمت ثابت ہوتی ہے اور ایک بیٹی کی صورت میں اللہ نے رحمت کے کتنے دروازے کھولے ہیں ۔جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کانسلی سلسلہ اللہ نے بیٹیوں سے جاری فرمایا جو پوری انسانیت کے لیے باعثِ رحمت ہے،ازواجِ مطہرات کی پوری سیرت آج بھی انسانی آبادی کے لیے رشدوہدایت کامظہر ہے،انبیاءؑ،صحابہؓ، صلحاء،اتقیاءاور بے شمار اسبابِ خیرکا سبب یہی بیٹیاں ہیں،جن کے مبارک وجود سے اللہ نے خیروبرکت اور اپنی رحمتوں کانزول فرمایا ہے۔

بیٹیاں اپنی عظمتوں کو پہچانیں :
صبر اور صبر پر استقامت دولت بھی ہے اور مسئلے کا حل بھی ،اس لئے ہر حال میں بات چیت سے مسئلے کا حل نکالا جائے ،ممکن ہے وقت لگ سکتا ہے ، دیر ہوسکتی ہے اور خواہش کے مطابق حل سامنے نہ آئے ،مصالحت کی راہ نکالنی پڑے،مگر جذبات اور غلط فیصلوں سے راستہ نہیں نکلا کرتا ،اپنے سے بڑوں کے سامنے مسائل کو رکھنا چاہئے ،وہ ضرور کوئی مناسب حل تلاش کریں گے ،اکتانے یا من چاہی فیصلے کرنے سے یا اپنی عزیز ترین جان کو کھپانے سے کبھی امن کا راستہ نہیں نکل سکتا ،نہ یہاں نہ وہاں ۔اللہ ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گذارنے کی توفیق بخشے ۔

✍🏻:عین الحق امینی قاسمی

نائب صدر جمعیۃ علماء ہند بیگوسرائے،بہار