طنز و مزاح: حب الوطنی ثابت کرنے کا سنہری موقع دے رہی سرکار، محض 25-30 روپے کی قربانی درکار!

1,134

پچھلے آٹھ سالوں میں ہمارا ملک ترقی کے جس اعلیٰ مقام پر پہنچ چکا ہے، اس میں حب الوطنی بھی حکومتی حکم سے پیدا کی جا رہی ہے۔ زبان کچھ بھی ہو، واضح حکم یہ ہے کہ ملک کے چھبیس (سابقہ ہدف بیس تھا) کروڑ گھرانوں کے لوگوں کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے 13 سے 15 اگست تک گھروں پر ترنگا لہرانا ہے۔ چونکہ حکم امت شاہ کی وزارت داخلہ کا ہے تو اس کی اہمیت کا اندازہ آپ کو لگا لینا چاہئے۔ حکم میں یہ نہیں کہا گیا کہ پرچم نہ اٹھائیں تو غدار تصور کیا جائے گا لیکن آج کل جو نہیں کہا جاتا، مفہوم وہی ہوتا ہے۔ یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ یہ ملک ہندو راشٹر بن گیا ہے۔ کبھی یہ بھی نہیں کہا گیا کہ آئین کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔

کبھی یہ بھی نہیں کہا گیا کہ پولیس راج لایا جا چکا ہے لیکن حقیقت عیاں ہے۔ کرناٹک کے ایک وزیر نے لال قلعہ پر بھگوا لہرانے تک کی بات کہہ ڈالی ہے۔ اس پر وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی خاموشی قابل ستائش ہے، آج کل ان کی خاموشیوں میں سب کچھ چھپا ہوتا ہے۔ تقریر نہیں بلکہ اس میں چھپی خاموشیوں کو سننا اور پڑھنا چاہیے، ‘آزادی کے امرت مہوتسو’ کی پوری حقیقت سامنے آ جائے گی۔

اس لیے جو لوگ حکومت کی نظروں میں خود کو محب وطن ثابت کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ سنہری موقع ہے۔ اس کے لیے اس مہنگائی میں صرف 25 سے 30 روپے کی قربانی دے کر جھنڈا خرید کر گھر پر لگانا پڑے گا۔ اس سے ثابت ہو جائے گا کہ آپ محب وطن ہیں لیکن انتظار کریں، یہ کافی نہیں ہے۔ آپ کو ترنگے کے ساتھ سیلفی لینا ہوگی اور اسے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنا ہوگا۔ حب الوطنی بلا شبہ تبھی پایہ تکمیل کو پہنچے گی جب آپ تصویر کو فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ وغیرہ پر بھی لوڈ کریں گے۔ اس کے علاوہ جے شری رام بھی کریں تو سونے پر سہاگا ہوگا!

جو لوگ ان دنوں کسی خاص مذہب کے لوگ کہلانے کے فیشن میں ہیں، انہیں ہوشیار رہنا چاہیے۔ ایسا کرنے کے بعد بھی ان کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان ہی رہے گا۔ ویسے بھی حادثے سے احتیاط بھلی! ویسے کئی بار احتیاطی تدابیر سے بھی حادثات پیش آ جاتے ہیں۔ اس کی مثال میں حالیہ سڑک حادثے سے دوں گا۔ اندور سے ایک بس مہاراشٹر کی طرف جا رہی تھی۔ اچانک دو موٹر سائیکل سوار رانگ سائیڈ سے آ گئے، انہیں بچانے کے لیے ڈرائیور سے ایسی غلطی ہوئی کہ بس دریا کے پل سے سو فٹ نیچے گر گئی اور تمام بارہ سوار جاں بحق ہو گئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ احتیاط نہ کی جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے بعد باقی سرکار بہادر کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ اس کی مرضی سپریم ہے۔ ویسے بھی حب الوطنی اور بغاوت کے سرٹیفکیٹ وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، ہندو سینا وغیرہ کے پاس ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ کون حاصل کر سکتا ہے، کون نہیں کر سکتا۔

اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ ہر ہندو کو حاصل ہو جائے گا۔اس حکومت کا ایک ‘کارنامہ’ یہ ہے کہ اس نے حب الوطنی اور فتنہ کی تعریف کو آسان کر دیا ہے۔ ہر تسلیم شدہ سنگھی بھاجپائی محب وطن ہے اور ہر سوچنے سمجھنے والا شخص غدار ہونے کی تمام شرائط پوری کرتا ہے۔ ہر ایسا ہندو محب وطن ہے جو اپنے جذبات دن میں دس مرتبہ مجروح کرواتا ہے۔ حب الوطنی کی تعریف کو آسان بنانے کے لیے کم از کم ایک بار مودی جی کا شکریہ! کہو شکریہ مودی جی۔ کہو ورنہ وہ خود کہیں گے- شکریہ مودی جی۔

وشنو ناگر