طنز و مزاح: اب ہمیں حلال نہیں جھٹکا چاہئے، ایک بار میں ہی مخالفین کا خاتمہ چاہئے

406

وشنو ناگر

صدر صاحب، آپ نے یہ کہہ کر کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ختم ہو جائیں گی اور صرف بی جے پی ہی باقی رہے گی، ہمارے حوصلوں کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے بعد کہنے کے لئے کچھ خاص نہیں بچتا۔ صدر کی تقریر کے بعد کچھ کہنا ویسے بھی حماقت مانی جاتی ہے لیکن یہ حماقت وقت کی ضرورت ہے، وقت کا تقاضا ہے، لہذا میں اپنی بات چند لفظوں میں کہوں گا۔ صدر صاحب آپ نے ہدف کا ذکر تو کر دیا لیکن شاید جان بوجھ کر یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ ہدف 2024 تک حاصل کرنا ہے؟ مستقبل کے مودیوں-شاہوں-آدتیہ ناتھوں پر اسے نہیں چھوڑنا ہے۔ آپ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ مقصد کیسے حاصل ہوگا؟ میں جانتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری قیادت کے نوٹس میں ہیں، پھر بھی میں اپنی محدود ذہانت کی بنیاد پر دو لفظ کہنا چاہوں گا۔

جب ہمیں 2024 تک ہدف حاصل کرنا ہے تو ہمیں ایک پارٹی، ایک ملک، ایک قائد، ایک مذہب کے ہدف کی جانب تیزی سے گامزن ہونا چاہیے۔ اپوزیشن کو ہر روز ایجنسیوں کے سامنے بلا کر پوچھ گچھ، 50-50 گھنٹے پوچھ گچھ، کسی کو اچانک گرفتار کرنا یقیناً ملکی مفاد میں ہے۔ کوئی محب وطن اس کی مخالفت بھی نہیں کرے گا۔ اور جو ایسا کرے گا ہم آپ کی برکت سے اس کی ٹانگ، ہاتھ، منہ توڑ دیں گے۔ اوپر سے بس تھوڑا سا اشارہ درکار ہے لیکن محترم آپ نے ہر کارکن کو اس طرح بااختیار بنایا ہے کہ اب اشارے کی ضرورت نہیں رہی۔ کسی واقعے کے بعد اتنا کہنا کافی ہے کہ قانون اپنا کام کرے گا۔ یعنی گرین سگنل ہے۔ جے شری رام ہے۔ مودی مودی ہے۔

جی محترم، جب مقصد اتنا واضح ہے اور ہم نے عوام کو سب کچھ صاف صاف بتا دیا ہے تو پھر ہر روز، صبح شام، ٹکڑوں میں کارروائی کیوں؟ ہم سو سنار کی بجائے ایک لوہار کی کر کے جلدی کام پورا کیوں نہیں کرتے؟ ہتھوڑا ہمارے ساتھ ہے، لوہار ہمارے ساتھ ہے اور کسی کے باپ کا خوف نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ایک ہی ضرب میں تمام مخالفین کے سروں پر ہتھوڑا برسایا جائے۔ یہ کام دو چار دن میں کافی حد تک مکمل ہو سکتا ہے۔ ہمارے پاس کیا نہیں ہے؟ پولیس ہے، ہوم گارڈ ہے، مختلف فوجی سول فورس ہیں، سنگھ ہے۔ پھر ہم بھی تو معزز ہیں۔ ویسے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے ہمارے ہاتھوں میں خارش ہوتی رہتی ہے۔ اب ہم حلال نہیں جھٹکا چاہتے ہیں۔ ہمیشہ کے لیے مخالفت اور مخالفین کی لڑائی ختم ہونی چاہیے۔ ویسے بھی ہمیں ثبوت، گواہ، قواعد و ضوابط، انصاف وغیرہ کی پروا کہاں ہے؟ جب ہم ان غیر ضروری جھنجٹوں کو پالتے ہی نہیں تو پھر بار بار ہاتھ چلانے کا کیا فائدہ؟

ہمارے پاس بہت سی ایجنسیاں ہیں، پی ایم ایل اے جیسے متعدد قوانین ہیں۔ ہم کسی کو بھی، کسی بھی وقت، کہیں بھی بغیر کسی شکایت کے، بغیر کسی ایف آئی آر کے گرفتار کرنے کے اہل ہیں۔ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم کسی کو بھی ملک دشمن، نکسلائٹ، دہشت گرد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا دشمن، پاکستانی ایجنٹ، بنگلہ دیشی شہری قرار دے سکتے ہیں، تو حلال کیوں، جھٹکا کیوں نہیں؟ ایک دن، دو دن، دس دن ملک اور بیرون ملک مذمتیں ہوں گی اور کیا ہوگا؟ اور ہمیں پہلے اس کی فکر کب تھی، جو اب کریں گے؟

ایک جھٹکے سے ہلاک کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ ملک میں ہر روز مایوسی کی فضا پیدا نہیں ہوگی۔ لوگ صبح ٹی وی آن کرتے ہیں یا اخبار پڑھتے ہیں، وہی داڑھی والا چہرہ اور وہی خبریں! لوگ اس سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہمارے کارکن بھی کہنے لگے ہیں یار ہم تو اب نہ ٹی وی دیکھتے ہیں نہ اخبار! ایک ہی چیز کب تک دیکھتے رہیں؟ کچھ نیا تو ہو۔ مختلف تو ہو! نفرت کی ہمیں نئی پڑیا چاہئے پرانی سے نشہ نہیں چڑھتا!

اب ملک کو ’فیل گڈ‘ فیکٹر چاہئے۔ عوام مہنگائی ہے مہنگائی ہے، بے روزگاری ہے بے روزگاری ہے، کرپشن ہے کرپشن ہے، بلڈوزر ادھر بھی ہے، بلڈوزر ادھر بھی ہے، یہ سب بہت سچ چکے۔ وہ اب حریفوں مخالفوں کی یہ چوں چپڑ نہیں چاہئے۔ اب اسے چاہئے، ، سب ٹھیک ہے، سب چنگا ہے۔ مودی جی، شاہ جی، آدتیہ ناتھ جی جو بھی کہیں وہ حرف آخر ہے، وہیں سچ ہے۔ کوئی اگر مگر نہیں ہے۔ اچھے دن آ گئے ہیں۔ 15 لاکھ آنے کا احساس ہو رہا ہے۔ بھوک اور غذائی قلت ختم ہو گئی ہے۔ اب تک 16 کروڑ لوگوں کو سالانہ دو کروڑ کی شرح سے روزگار مل چکا ہے۔ بے روزگار ڈھونڈے نہیں مل رہے۔ ملک میں امن و امان ہے، دودھ اور گھی کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ کوئی گودی میڈیا نہیں، سب حقیقی میڈیا ہے۔ ’امرت کال‘ گزرتے ہی، آہ، ملک کتنا خوش حال ہو گیا ہے، یہ فیلنگ چاہئے۔ کوئی یہ کہنے والا نہیں بچنا چاہئے کہ یہ جھوٹ ہے۔ ہمیں ایسے سکون کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسی نیک سیرت قوم کی ضرورت ہے۔ بھارت ماتا کی جے۔ وندے ماترم۔ مودی-مودی۔