طلاق ثلاثہ بل کی منظوری ، ٹی آر ایس کا حقیقی چہرہ بے نقاب ! کے سی آر نام نہاد سیکولر، اسداویسی اور علماء و مشائخین قوم کو جواب دیں: محمد علی شبیر

0 1

حیدرآباد ۔ 31 جولائی 2019
کانگریس کے سینئر قائد اور سابق وزیر محمد علی شبیر نے راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کو ٹی آر ایس کی تائید کی سخت مذمت کی۔ بل کی منظوری کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہاکہ ٹی آر ایس نے بل پر ووٹنگ سے غیر حاضر رہتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بی جے پی کی غیر معلنہ حلیف ہے اور این ڈی اے حکومت کی دیگر حلیفوں کی طرح ایک پارٹی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت بے نقاب ہوچکی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ بی جے پی حکومت گزشتہ 19 ماہ سے راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کو منظور کرنے سے قاصر رہی حالانکہ لوک سبھا میں تین مرتبہ اِس بل کو منظور کیا گیا تھا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بِل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم بی جے پی حکومت نے ٹی آر ایس کو ووٹنگ سے دور رکھنے کی حکمت عملی کے ذریعہ بل کو منظور کرالیا۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ این ڈی اے حکومت کو ایوان بالا میں بِل کی منظوری کے لئے درکار تعداد نہیں ہے لیکن نام نہاد سیکولر جماعتوں جیسے ٹی آر ایس نے ووٹنگ سے دور رہ کر بل کی کامیابی کی راہ ہموار کی۔

کانگریس قائد نے کہاکہ وہ ابتداء سے کہہ رہے ہیں کہ ٹی آر ایس بی جے پی کی بی ٹیم ہے اور یہ آج ثابت ہوچکا ہے۔ اگر ٹی آر ایس حقیقی معنوں میں سیکولر ہے تو وہ بل کے خلاف ووٹ دیتی لیکن وہ سیکولرازم کا جھوٹا نقاب پہنے ہوئے ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بل کی تائید کے ذریعہ ٹی آر ایس نے مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ ٹی آر ایس کبھی بھی سیکولر پارٹی نہیں رہی بلکہ مسلمانوں کے خلاف اُس کا خفیہ ایجنڈہ رہا۔ انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کرنے والی مسلم جماعتوں اور علمائے مشائخین کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔

’لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی‘ کے مصداق تمام مسلمان انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ کم از کم علماء و مشائخین مسلم تنظیموں کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے درست قدم اُٹھانا چاہئے۔ محمد علی شبیر نے مجلس کو نشانہ بنایا اور کہاکہ 2014 ء سے مجلس ٹی آر ایس کی اندھی تائید کررہی ہے۔ اسد اویسی نے کانگریس کو اُس وقت تنقید کا نشانہ بنایا جب وہ ٹی آر ایس کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کررہی تھی۔ طلاق ثلاثہ بل کی منظوری کے بعد کے سی آر کا نقاب اُتر چکا ہے۔ مجلس اور اسد اویسی کو ٹی آر ایس کے بارے میں اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے۔ اُنھیں عوام کو بتانا ہوگا کہ آیا یہ ٹی آر ایس سے اپنی دوستی جاری رکھیں گے یا نہیں۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ 2014 ء سے ٹی آر ایس مرکز میں نریندر مودی حکومت کے ہر فیصلے کی تائید کررہی ہے ۔