• 425
    Shares

جنوبی ہلمند صوبے میں صحافی کا اغوا‘ حشر نا معلوم

کابل: افغان حکومت کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے کابل میں ایک افغان ریڈیو اسٹیشن کے منیجر کاقتل کر دیا اور جنوبی ہلمند صوبے میں ایک صحافی کو اغوا کر لیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مسلح افراد نے افغان دارالحکومت میں ‘پکتیا گھاگ’ کے نام سے ریڈیو اسٹیشن کے منیجر اور افغانستان میں آزاد میڈیا کی حمایت کرنے والے ایک حقوق گروپ این اے آئی کے افسر طوفان عمر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔این اے آئی کے سربراہ مجیب خلوتگر نے کہا کہ ‘طوفان عمر کو نامعلوم مسلح افراد نے قتل کیا، وہ آزاد خیال شخص تھا، ہمیں آزادانہ طور پر کام کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے’۔کابل میں موجود افغان حکام نے طالبان جنگجوؤں پر حملے کی ذمہ داری عائد کی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ این اے آئی نے رپورٹ کیا تھا کہ کم از کم 30 صحافی اور میڈیا ورکرز رواں سال افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کے ہاتھوں مارے گئے، زخمی ہوئے یا اغوا کیے گئے ہیں۔جنوبی صوبہ ہلمند میں حکام نے بتایا تھا کہ طالبان جنگجوؤں نے اتوار کو ایک مقامی صحافی نعمت اللہ کو صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں اس کے گھر سے اغوا کیا۔ایک نجی ٹی وی چینل گھرگشت ٹی وی کے سربراہ رضوان میاخیل نے کہا کہ ‘نعمت اللہ کو کہاں لے جایا گیا ہے اس کا کچھ پتا نہیں ہے، ہم واقعی گھبرائے ہوئے ہیں’۔طالبان کے ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں کابل میں قتل یا ہلمند میں مغوی صحافی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔افغان نیوز تنظیموں کے ایک اتحاد نے امریکی صدر جو بائیڈن اور ایوان نمائندگان کے رہنماؤں کو خط لکھ کر ان پر زور دیا کہ وہ افغان صحافیوں اور معاون عملے کو خصوصی امیگریشن ویزا دیں۔خیال رہے کہ طالبان نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں تین شمالی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا اور واشنگٹن کے رواں ماہ کے آخر تک اپنا فوجی مشن ختم کرنے کے اعلان کے بعد افغان حکومتی افواج کے خلاف کارروائی کو تیز کرتے ہوئے مزید قبضے کے لیے پیش رفت کر رہے ہیں ۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں