• 425
    Shares

سہارنپور:20ستمبر(یواین آئی)افغانستان میں طالبان حکومت کے بارے میں دارالعلوم دیوبنداس وقت تک کوئی رائے قائم نہیں کرے گا جب تک وہاں مثالی اسلامی حکومت قائم نہیں ہوجاتی اور اسلامی قوانین کے عین مطابق وہاں حکمرانی نہیں شروع ہوجاتی۔

دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا ارشد مدنی نے پیر کو میڈیا نمائندوں سے کہا’ہم اس بات کی گہری تکلیف ہے کہ میڈیا بہت گہرائی میں جاکر دارالعلوم اور یہاں کے کردار کو نہیں دکھاتا اور ایک بنی بنائی رائے کے ساتھ خبریں شائع کرتا ہے دارالعلوم کو مبینہ دہشت گردوں کا مرکز بتا کر خبریں شائع کرتا ہے جو کی پوری طرح سے بے بنیاد اور سچائی سے پرے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی حکومت کی بات کرنا آسان ہے اور اسلامی حکومت کو قائم کر کے اسے اسلام کے بنیادی وصولوں پر چلانا مشکل اور چیلنج بھرا کام ہے۔افغانستان میں ہم انتظام کریں گے کہ وہاں کی حکومت کب اپنے آئینی وجود میں آتی ہے اور کیسے اور کس طرح حکمرانی کرتی ہے۔

مولانا نے کہا’دارالعلوم کا افغانستان اور طالبان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ دارالعلوم کا کام قرآن،حدیت کی تعلیم دیتا ہے ایسے طلبہ کو تیار کرتا ہے جو مساجد اور مدرسوں میں اپنی خدمات انجام دے سکیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ میڈیا کی سوچ فرقہ وارانہ نہیں ہونی چاہئے۔ اسے غیرجانبداری کے ساتھ پوری چیزوں کو دیکھنا چاہئے۔اور حکومت کو فرقہ وارپرست عناصر اور اس سوچ اور نظریہ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں استحکام،امن اور سماجی ہم آہنگی اسی وقت قائم ہوگی جب حکومتیں فرقہ واریت پر لگام لگائیں گی۔انہوں نے کہا کہ دیوبند دنیا کے سبھی مسلمانوں کی طرح اللہ و رسول کی وحدانیت کا قائل ہے۔دارالعلوم بھی دنیا میں امن اور بھائی چارے کے قیام کا مشتاق ہے۔دارالعلوم کے طلبہ کبھی فسادات، جھگڑا اور کسی بھی ایسی سرگرمی میں شرکت نہیں کرتے جو سماجی تانے بانے کے خلاف ہو۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔