کابل۔ افغانستان میں سکیورٹی دستوں او رشہریوں کے خلاف طالبان کی جارحیت کے پیش نظر بڑھتے تشدد کی وجہہ سے ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔

ٹولو نیوز کی خبر ہے کہ اس کشیدگی کی وجہہ سے کئی بے گھر افراد بڑے خاندانی امدادی نٹ ورکرس سے منقطع ہوگئے ہیں اور پناہ کی تلاش او ردیگر ضروریات کی دیکھ بھال کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔

اس کی ایک مثال کابل کے ایک گھر میں کم سے کم پانچ فیملیاں رہ رہی ہیں۔ شمالی صوبہ میں جاری کشیدگی کی وجہہ سے یہ لوگ کنڈس سے نقل مقام کرکے ائے ہیں۔ ان فیملیوں کا کہنا ہے کہ انہیں انسانی امدادکی شدید ضرورت ہے۔

کنڈز کی رہنے والے ایک زیبا نے کہاکہ کنڈز میں لڑائی کی وجہہ سے حالیہ سالوں میں انہوں نے ان کے کئی بچے گنوائے ہیں اور یہ چوتھی مرتبہ جو کشیدگی کی وجہہ سے وہ بے گھر ہوئی ہیں۔زیبا نے کہاکہ”ہم نے کبھی خوشی کے ایام نہیں دیکھے۔

ہمیں کشیدگی کا ہر وقت سامنا ہوا ہے“۔ ایک اور بے گھر فرد محمد حسن نے کہاکہ حکومت کے دستوں او رطالبان کے درمیان تصادم میں ان کا مکان ”تباہ“ ہوگیاتھا۔

ٹولو نیوز کی جانکاری ہے کہ سب سے زیادہ متاثر بے گھر بچے ہی ں جو اس سال عام عید منانے سے بھی قاصر ہیں۔

ایک بے گھر فرد سونا نے کہاکہ ”اگر امن نہیں آتا ہے تو ہمار مستقبل کیاہوگا؟یہ ہرکسی کے لئے ایک سوال ہے۔ ہمارا مستقبل کیاہے؟ اگرتم تعلیم حاصل کرتے ہیں تو کچھ کامیابی ملے گی۔

آپ کو تعلیم نہیں ملتی ہے تو آپ کیاکریں گے؟“۔ایک بے گھر فرد محفوظ نے کہاکہ”ہمیں معلوم نہیں کب عید ہے اور کب ایک معمول کا دن ہوگا“۔

حالیہ دنوں میں تشدد میں اضافہ بالخصوص نارتھ میں شدت کی وجہہ سے یواین نے 270,000سے زائد خاندانوں کے بے گھر ہونے کی جانکاری دی ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں