ہندوستانی قونصل خانے پر قبضہ، صورتحال پر امریکہ تشویش میں مبتلا، القاعدہ و داعش کے ابھرنے کا خدشہ

کابل : افغانستان میں افغان طالبان کی پیش قدمی جاری ہے صوبے غور کے دو اضلاع تائیوارا اور پسابند طالبان کے قبضے میں چلے گئے ہیں، افغان فورسزنے تاجکستان کے ساتھ متصل افغان صوبے تخار کے دارالحکومت تالقان پر افغان طالبان کے قبضے کی کوشش ناکام بنا دی۔افغان وزارت دفاع کے مطابق 24گھنٹوں میں مختلف صوبوں میں افغان فورسز کے آپریشن میں 271طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔افغان میڈیاکے مطابق کم از کم 10 شہروں کے نواح میں طالبان،افغان فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، 10 شہروں میں پل خمری، تالقان، قلعہ نو، شبرغان، میدان شہر، غزنی، قندھار، لشکرگاہ شامل ہیں۔۔مختلف علاقوں میں افغان طالبان کو سیکیورٹی فورسز اور لوگوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، گورنر تخار کا کہناہے تالقان میں طالبان کوبھاری نقصان ہوا ہے،سیکیورٹی فورسز کے حملے میں 55افغان طالبان جنگجو ہلاک، 90زخمی ہوئے ہیں۔طالبان کے جنگجووؤں نے افغانستان کے وسطی شہر غزنی کا گھیراؤکر لیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق افغانستان کے شہر غزنی کی کونسل کے رکن حسن رضائی کا کہنا ہے کہ شہر میں صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ ان کے بقول طالبان جنگجو مقامی شہریوں کے گھر میں چھپ کر افغان فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں اس صورتِ حال نے فورسز کی طالبان کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔غزنی شہر کا محاصرہ طالبان کی کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضے کی تازہ ترین کوشش ہے۔ اس سے قبل وہ متعدد اضلاع پر قابض ہو چکے ہیں۔افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں بھی افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جہاں روایتی طور پر طالبان مضبوط پوزیشن میں رہے ہیں۔سابق رکن پارلیمنٹ حامد زئی لالے افغان فورسز کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔ انہوں نے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ گزشتہ چار روز کے دوران طالبان جنگجو قندھار شہر کی مغربی سمت سے حملہ آور ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز انہیں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔اب تک طالبان کسی بھی صوبے کے دارالحکومت پر قبضہ نہیں کر سکے ہیں تاہم وہ شمالی علاقوں کے بعد اب کابل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اطلاع ہے کہ افغان طالبان نے قندھار میں بھارتی قونصل خانے پر قبضہ کر لیا، ویڈیو میں مسلح طالبان قونصل خانے کے مختلف حصوں میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔قندھار پر قبضے کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ دریں اثناء امریکہ نے افغانستان کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت افغان فورسز کے آگے بڑھ کر اپنے ملک کا دفاع کرنے کا ہے۔امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے اتوار کو ‘فاکس نیوز’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان کی صورتِ حال کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ یہ وقت افغان فورسز کی ذمہ داری لینے کا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب طالبان افغانستان کے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رہے ہیں جب کہ دوسری جانب امریکی افواج صدر جو بائیڈن کی انخلا کی پالیسی کے تحت تیزی سے وطن واپس لوٹ رہی ہیں۔گزشتہ ہفتے طالبان کے جنگجووؤں نے مغربی صوبے بدغیس کے دارالحکومت میں داخل ہونے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات پر قبضہ کر لیا تھا تاہم افغانستان کی اسپیشل فورسز نے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔حالیہ چند روز کے دوران افغانستان میں جاری تشدد کی لہر میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کارروائیوں میں ایسے موقع پر تیزی دیکھی جا رہی ہے جب امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے مکمل امریکی افواج کے انخلا کے لیے 31 اگست کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔’رائٹرز’ کے مطابق افغانستان میں جنگ کی قیادت کرنے والے امریکی فوج کے کمانڈر جنرل آسٹن ملر پیر کو کمان سے دست بردار ہو جائیں گے جو کہ ملک میں جاری طویل جنگ کے خاتمے کی ایک علامتی کارروائی ہوگی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں