• 425
    Shares

کابل: چترال کے قریب سرحدی علاقے میں طالبان کے حملوں سے بچ کر 46 افغان فوجیوں نے پاکستان میں پناہ طلب کی۔ یہ ایسا دوسرا موقع ہے کہ افغان فوجی فرار ہو کر پاکستان میں داخل ہوئے۔افغانستان کے درجنوں فوجی طالبان کے حملوں کے باعث اپنی پوسٹیں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور انہوں نے پاکستان میں پناہ لی۔ پاکستانی فوج نے اس بارے میں پیر کو ایک بیان جاری کیا، جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ 46 فوجیوں کو پناہ فراہم کی گئی ہے۔ چترال کے قریب واقع سرحد پار افغان فوج کی چوکیوں پر طالبان کی چڑھائی کے پیش نظر ان فوجیوں نے اپنے کمانڈر کی قیادت میں سرحدی گزر گاہ پر پاکستانی حکام سے مدد طلب کی تھی۔ پاکستانی فوج کے مطابق کابل حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد اتوار کی شب ان فوجیوں کو پاکستان داخلے کی اجازت دے دی گئی۔فوجی بیان میں کہا گیا ہے، ”فوجی اقدار کے تحت افغان دستوں کو کھانے پینے کی اشیاء، سر پر چھت اور طبی امداد فراہم کی گئی۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ کاغذی کارروائی کے بعد اور پروٹوکول کے تحت فوجیوں کو واپس ان کے ملک روانہ کر دیا جائے گا۔ جولائی میں اس سے قبل بھی 35 افغان فوجیوں نے پاکستان میں پناہ کے لیے سرحد پار کی تھی۔ طالبان کی پیش قدمی کے تناظر میں سرحدی علاقوں میں تعینات افغان فوجی کئی مواقع پر پناہ کے لیے پاکستان، تاجکستان اور آران جا چکے ہیں۔ان دنوں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا عمل جاری ہے۔ آسے میں طالبان نے اپنے حملے بڑھا دیے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ملک کے اسی فیصد علاقوں پر قابض ہیں۔ کابل حکومت آسے الزامات مسترد کرتی ہے مگر مبصرین اس پر متفق ہیں کہ مجموعی طور پر لگ بھگ چار سو اضلاع میں سے نصف پر اب طالبان قابض ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں