• 425
    Shares

کابل:15. افست۔فغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو دارالحکومت کابل داخل ہوچکے ہیں عینی شاہدین کے مطابق مسلح جنگجوؤں کو کابل داخلے کے دوران بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

طالبان نے جنگجوؤں کو حکم دیا ہے کہ کابل میں تشدد سے گریز کریں اور ایسے لوگوں کو حفاظتی مقامات پر منتقل ہونے دیں جو دارالحکومت سے نکلنا چاہتے ہیں
امریکہ نے کابل سے اپنے سفارتی عملے کی واپسی کا آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ برطانوی شہریوں اور عملے کی واپسی کے لیے قریب 600 فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

کابل سے قبل جلال آباد اور مزار شریف پر طالبان نے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا تھاامریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ افغان فوج کو خود ذمہ داری لینا تھی۔

امریکی اور غیر ملکی افواج طالبان کے ساتھ معاہدہ کے تحت بیس سال بعد افغانستان سے واپس جا رہی ہیں اور غیر ملکی افواج کا انخلا 11 ستمبر تک مکمل ہو جائے گا۔

کابل میں بی بی سی کے ایک رپورٹر نے شہر کا حال بیان کا ہے: بہت سی دکانیں اور بازار بند ہیں اور کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ ’پہلے کبھی اتنے پریشان نہیں ہوئے۔‘

کچھ سرکاری دفاتر بھی بند ہیں اور فوج اور پولیس اپنی اپنی جگہوں سے اپنی ڈیوٹی پوسٹس چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

کچھ علاقوں میں گولیاں چلنے اور چھوٹے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

ایسی افواہیں آن لائن گردش کر رہی ہیں کہ طالبان کابل میں داخل ہو گئے ہیں۔ تاہم طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہر کے دروازوں پر رہیں اور حملہ نہ کریں

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔