کابل، 6 جنوری (یو این آئی) افغانستان میں طالبان نے خواتین کے بعض کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف خواتین کو ان ہی کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی جو اسلامی روایات اور ثقافت کے مطابق ہوں۔یہ اطلاع میڈیا رپورٹس میں دی گئی ہے۔ فزیکل ایجوکیشن اور نیشنل اولمپک کمیٹی کے ترجمان داد محمد نوا نے کہا، "ہم اسی بات کی اجازت دیں گے جس کی ہماری ثقافت اور روایات میں اجازت دی گئی ہے۔”

میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ خواتین کو صرف ان کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی جو اسلامی اقدار اور افغانی ثقافت پر مبنی ہوں۔دوسری جانب قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ٹائٹل جیتنے والی تائیکوانڈو اور کوہ پیمائی کے کھیلوں کی کوچ طاہرہ سلطانی کا کہنا تھا کہ ‘جب سے افغانستان میں طالبان نے اقتدار سنبھالا ہے، مجھے ورزش کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘ایک اسپورٹس کلب کے سربراہ حفیظ اللہ عباسی نے کہا، ’’اسلام خواتین کو اتھلیٹک کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ خواتین کو پہلے بھی الگ طبقہ سمجھا جاتا تھا اور آج بھی ۔ کوچ بھی ایک خاتون ہے نہ کہ مرد ۔ لیکن خواتین کو ان کے لیے ضروری ورزش کرنے کی اجازت تو دی جانی چاہیے۔‘‘دوسری جانب فٹنس کوچ نے کہا کہ ہمارا کام تو آسانی سے جاری ہے۔

ہم ورزش کرتے ہیں اور خواتین بھی اس میں حصہ لیتی ہیں اور ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے افغانستان میں خواتین کے حوالے سے پریشان کن رپورٹس دی تھیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ طالبان نے خواتین پر ورزش کرنے اور صحت کی دیکھ بھال کرنے پر پابندی عائد کی ہے کیونکہ طالبان کے قوانین کے تحت ان کے ساتھ ایک خاتون محرم کا ہونا ضروری ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں