طالبان اسلامی امارت کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر، وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور نائب وزیر دفاع ملا فضل مظلوم سمیت بڑی تعداد میں طالبان رہنماؤں نے قندھار کا سفر کیا ہے۔یہ فورم تحریک کے رہنما ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی موجودگی میں منعقد کیا گیا جس میں اندرونی تنازعات کے حل اور بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قندھار میں اس سہہ روزہ اجلاس کے اختتام پر اس کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے امیر نے نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ہدایات جاری کیں۔ اجلاس نے ملا بردار کی سربراہی میں اقتصادی کمیشن کو معاشی بہتری کے لیے ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

قندھار طالبان کا روایتی دارالحکومت ہے اور تحریک کے رہنما نے، جن کی موت کی افواہ بھی پھیلی ہوئی ہے، ابھی تک کابل کا سفر نہیں کیا ہے۔ طالبان کے ذرائع ابلاغ اور ترجمانوں نے کبھی کبھار یہ اطلاع بھی دی کہ ملا ہبت اللہ نے قندھار کے پڑوسی صوبوں کا سفر کیا تھا لیکن ان کی خود موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں دیا تھا۔طالبان تحریک کے بانی ملا محمد عمر صوبہ قندھار کے خاکریز شہر کے رہائشی تھے اور ان کے زیادہ تر ساتھی اور طالبان کی قیادت کونسل کے ارکان قندھار کے پشتون ہیں۔ایک ایسے وقت جب طالبان کی حکومت کو ابھی تک دنیا کی کسی بھی حکومت نے تسلیم نہیں کیا، بشمول وہ جو اس کی حمایت اور تعاون کرتیں ہیں، گروپ کی اندرونی تقسیم بظاہر ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔

اندرونی اختلافات؟

کابل میں حقانی نیٹورک کے ایک سینیئر رکن عبداللہ گل حقانی کے انکشاف نے حقانی نیٹورک اور ملا برادر کے درمیان اختلافات کو جنم دیا ہے۔ اس ویڈیو بیان کے جاری ہونے نے ملا برادر، ملا ہبت اللہ اور مولوی یعقوب کے وفادار طالبان کی طرف سے بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا ہے۔حقانی نیٹورک کا اب افغانستان کی سکیورٹی اور آمدن کے ذرائع پر سب سے زیادہ کنٹرول ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس نیٹورک نے قندھار کے طالبان کو کمزور کرنے کے لیے اپنی آستینیں چڑھا رکھی ہیں، جو ملا محمد عمر کے اصل جانشین ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔دوسری طرف، حقانی نیٹ ورک اور قندھار طالبان کے درمیان حکومت چلانے، دنیا کے ساتھ معاملات اور افغانستان کے مالی وسائل کا انتظام کرنے کے طریقے پر بھی شدید اختلافات بتائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملا برادر اور مولوی یعقوب پاکستان اور ایران کے ساتھ جنوب میں افغانستان کی سرحدوں اور بندرگاہوں کو کنٹرول کرتے ہیں اور سراج الدین حقانی مشرق سے شمال اور شمال مشرق تک اس کی آمدن کو کنٹرول اور استعمال کرتے ہیں۔

پچھلے سات مہینوں میں تجارتی بندرگاہوں، ٹیکس وصولی اور خطے کے ممالک کے ساتھ تجارت سے طالبان کی بھاری آمدن کی کوئی واضح رپورٹ نہیں ہے۔ آمدن کا ہر ذریعہ حقانی نیٹ ورک اور قندھاری طالبان سمیت طالبان لیڈروں میں سے کسی ایک سے منسلک ہوتا ہے اور یہ براہ راست ان نیٹ ورکس کے خزانے میں جمع ہوتا ہے۔قندھاری طالبان، بشمول ملا عبدالغنی برادر، پڑوسی ممالک اور دنیا کے ساتھ محتاط انداز میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں، لیکن حقانی نیٹ ورک، القاعدہ اور افغانستان میں مقیم غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو برقرار رکھتے ہوئے، اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے۔

ایک باخبر سکیورٹی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ فارسی کو بتایا کہ سراج الدین حقانی اپنی آمدن کے ذرائع پر غلبے کی وجہ سے طالبان رہنما کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے، حقانی پہلے سے موجود خودکش سکواڈ کو برقرار رکھتے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ان بچوں کو بھی بھرتی کیا ہے جن کے والد جنگ میں مارے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق سراج الدین حقانی کے حکم پر طالبان کے خلاف لڑائی میں ہلاک ہونے والے افغان فوجیوں کے بچ جانے والے سینکڑوں بچوں کو نورستان، کنڑ، پکتیا، لوگر اور ننگرہار صوبوں میں بھرتی کیا گیا ہے۔ سراج الدین حقانی کا ان بچوں کو بھرتی کرنے کا جواز یہ ہے کہ ان کے والد قابضین کے ساتھی تھے اور اب ان کے بچوں کو طالبان کے سپاہی بننا چاہیے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سراج الدین حقانی رات کے وقت کابل کے شمالی صوبوں میں مقیم غیر ملکی جنگجوؤں سے ملاقات کرتے ہیں اور انہیں بکتر بند گاڑیاں، اسلحہ اور نقدی فراہم کرتے ہیں۔ افغانستان کے شمالی صوبوں میں سینکڑوں تاجک، ازبک، اویغور، قازق اور چیچن جنگجو موجود ہیں اور طالبان کے لیے کام کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ان میں سے بہت سے جنگجوؤں کو افغان شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دیے گئے ہیں تاکہ طالبان کے درمیان ’غیرملکی‘ کی غیر موجودگی کو تاثر کو مضبوط کیا جا سکے۔

گذشتہ سال ستمبر کے اوائل میں، اشرف غنی کے فرار اور طالبان کے کابل پر کنٹرول کے دو ہفتے بعد، طالبان کی اندرونی کشیدگی نے کابینہ کا اعلان کرنے سے روک دیا تھا۔

طالبان کی زیر قیادت حکومت سے غیر مطمئن شخصیات میں ملا عبدالقیوم ذاکر اور صدر ابراہیم کے خطوط نمایاں ہیں۔ یہ دونوں جنوبی افغانستان میں طالبان کے سینیئر کمانڈر ہیں جنہوں نے سابق افغان حکومتوں اور غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق 2016 میں سابق طالبان رہنما اختر محمد منصور کے پاکستان میں قتل ہونے کے بعد صدر ابراہیم اور عبدالقیوم ذاکر نے تھوڑی دیر کے لیے ہیبت اللہ سے بیعت نہیں کی اور ہلمند کونسل تشکیل دی۔ یہ دونوں لوگ اختر محمد منصور کے قریب تھے اور ان کی قیادت میں انہوں نے جنگ کے بڑے حصے کی قیادت کی۔ ان اطلاعات کے مطابق ہلمند کونسل کو ایران کی طرف سے بارہا مالی اور ہتھیاروں کی امداد ملی ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گذشتہ سال 21 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ ابراہیم صدر کو نائب وزیر داخلہ اور عبدالقیوم ذاکر کو نائب وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد طالبان کے دو سینیئر کمانڈروں نے حکومت سے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ گذشتہ سات مہینوں میں ان دونوں وزارتوں میں ان دو افراد کی موجودگی کی کوئی خبر نہیں ہے۔

قانونی حیثیت حاصل کرنے کا راستہ؟

قندھار جرگہ میں ایک اور مسئلہ جس پر بحث کی جائے گی وہ ہے حکومت کے لیے قانونی حیثیت حاصل کرنے کے طریقے۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے سات ماہ سے زیادہ عرصے میں کسی بھی حکومت نے طالبان کے تسلیم کرنے کے مطالبات کا مثبت جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ پاکستان نے، جو کہ طالبان کا کٹر حامی ہے، اس گروپ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پاکستانی حکومتی اہلکار تمام بین الاقوامی سربراہی اجلاسوں میں طالبان کے لیے لابنگ کرتے رہے ہیں اور دنیا پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس گروپ کے ساتھ مل کر کام کریں۔

لڑکیوں کے سکولوں کا دوبارہ کھلنا اور خواتین کے کام اور زندگی پر سے پابندیاں ہٹانا، جو کہ طالبان کے ساتھ منسلک ہونے کے لیے دنیا کی اہم ترین شرائط میں سے ایک ہے، ابھی تک پوری نہیں ہوسکی ہے۔

طالبان کی کابینہ کا ایک حصہ امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کا سامنا کرنے والے لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد، جیسے کہ سراج الدین حقانی بھی امریکی وفاقی پولیس کو مطلوب ہیں۔ طالبان حکومت کے قائدانہ ڈھانچے میں ایسے لوگوں کے ساتھ بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل کرنے کے طریقے تلاش کرنا ایک مشکل کوشش لگتی ہے۔

طالبان کو تسلیم کرنے کے بارے میں عالمی حکومتوں اور اقوام متحدہ کے موقف سے پتہ چلتا ہے کہ جب تک پابندیوں اور جنگی جرائم کے الزام میں طالبان حکومت کے ساتھ ہیں، اس تحریک کو ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے تمام ذرائع بند ہیں۔ لیکن ساتھ ہی، ان شخصیات کو ان کے اپنے عہدوں سے ہٹانے کا کوئی بھی فیصلہ شدید اندرونی کشمکش کا باعث بن سکتا ہے۔ اس مخمصے میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ قندھار جرگہ کسی حل تک پہنچ پائے گا یا نہیں۔نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل انڈپینڈنٹ فارسی پر شائع ہوچکی ہے۔