• 425
    Shares

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی: زیر قبضہ علاقوں میں ’ریڈیو پر موسیقی بند، بازاروں سے خواتین غائب‘
افغانستان میں طالبان کے پے در پے صوبائی دارالحکومتوں پر کنٹرول کے بعد اب بعض ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لڑائی دارالحکومت کابل کے دروازوں تک پہنچ گئی ہے اور اس صورتحال کو بے چینی سے دیکھنے والے اکثر افراد یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ جن علاقوں میں طالبان قابض ہیں ان میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

اگرچہ افغان صدارتی محل ارگ میں ایک ذرائع نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ صدر غنی کابل کو طالبان کے حوالے نہیں کریں گے اور اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ بعض صوبوں کے دارالحکومت افغان فورسز نے جان بوجھ کر طالبان کے حوالے کیے۔تاہم گذشتہ تین چار دنوں میں طالبان نے قندھار، لشکر گاہ، ہرات اور غزنی سمیت کئی دیگر شہروں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ گو طالبان کو ان شہروں پر قبضہ کیے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں شاید اس لیے تاحال وہ پابندیاں نظر نہیں آ رہیں جو اُن کے پہلے دور میں تھیں، لیکن اب بھی ان شہروں میں جس چیز پر طالبان پابندیاں لگانا چاہتے ہیں وہ لگائی جا چکی ہیں۔

طالبان کے زیر قبضہ شہروں میں رہنے والے باسیوں نے بی بی سی اردو کے ساتھ ان تبدیلیوں پر بات کی ہے جو طالبان کے آنے کے بعد وہاں دکھائی دے رہی ہیں۔لشکرگاہ، ہرات، قندھار اور غزنی میں افغانستان کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو جسے اب تک ’آر ٹی اے‘ یا ’ملی ریڈیو ٹیلی ویژن‘ کہا جاتا تھا، طالبان کے کنٹرول کے بعد سے ’شریعت ژغ‘ یا ’شریعت کی آواز‘ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔اس ٹی وی اور ریڈیو پر موسیقی اور ڈرامے بھی اب دکھائی اور سنائی نہیں دے رہے۔اس کے ساتھ گذشتہ 20 برسوں میں افغانستان میں کئی مقامی ایف ایم ریڈیو سٹیشنز بھی قائم کیے گئے تھے لیکن ان شہروں میں اب وہ ایف ایم ریڈیوز یا تو بند کر دیے گئے ہیں یا پھر وہاں پر بھی موسیقی نشر نہیں کی جا رہی ہے اور صرف اسلامی تقاریر اور طالبان کے نغمے نشر کیے جا رہے ہیں۔

ان شہروں میں اب موسیقی اور گانے کسی بھی ریڈیو سے نشر نہیں ہو رہے، تاہم ابھی تک گاڑیوں میں طالبان نے پہلے کی طرح موسیقی کے خلاف کارروائیاں شروع نہیں کیں۔یاد رہے کہ سنہ 1996 سے 2001 تک افغانستان میں طالبان کے دور میں موسیقی پر سخت پابندی عائد تھی اور ان کے اہلکار مسافر اور پرائیوٹ گاڑیوں میں موسیقی روکنے کے لیے سخت چیکنگ کیا کرتے تھے اور لوگوں کو سزائیں بھی دیتے تھے۔
اس وقت طالبان جن جن علاقوں پر کنٹرول حاصل کرتے رہے وہاں پر اُسی وقت ٹی وی، وی سی آر، آڈیو کیسیٹس اور ڈش انٹیناز کو آگ لگاتے رہے۔

ان شہروں کے باسیوں کے مطابق اب تک وہاں پر پہلے کی طرح داڑھی منڈوانے پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ صرف عوام خود داڑھیاں نہیں رکھ رہے بلکہ ان شہروں میں موجود ہیئر ڈریسرز کو بھی داڑھی شیو نہ کرنے کے احکامات نہیں دیے گئے ہیں۔قندھار کے ایک تاجر عزیزاللہ کے مطابق ’اس سے پہلے بھی آس پاس کے علاقوں میں جہاں کئی مہینوں سے طالبان کا کنٹرول تھا، ان کی جانب سے داڑھی سے متعلق کوئی پابندی نہیں تھی۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔