صوفی منصور الحسن شاہ کا 26واں سالانہ عرس امسال بھی انتہائی سادگی سے خانقاہ منصوری کھنڈی پاڑہ میں منایا گیا،لاک ڈاون کی تعمیلات کے ساتھ مخصوص عقیدت مندوں نے کی شرکت، ذکرو اذکار کی مجالس اور غرباء ومساکین میں تقسیم لنگر کا اہتمام کیا گیا
(پریس ریلیز)
گزشتہ 22 جون سے 26 جون کے دوران قطب الاولیاء حضرت خواجہ صوفی منصور الحسن شاہ ابوالعلائی جہانگیری کے چھبیسویں سالانہ عرس کی تقریبات انتہائی سادگی اور لاک ڈاؤن تعمیلات پر عمل کرتے ہوئے کھنڈی پاڑہ بھانڈوپ میں واقع خانقاہ منصوری میں منعقد ہوئی۔ ہر سال عرس کی تقریبات کی بدولت کھنڈی پاڑہ درگاہ روڑ دن میں دلہن اور شب میں بقعۂ نور بن جاتا شب و روز زائرین و عقیدت مندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا اور ملک بھر کے مختلف علاقوں سے عقیدت مند، تن تنہا، بمع اہل و عیال و کثیر تعداد میں حاضری دینے پہنچتے۔ ہرسال ہزاروں افراد کی عرس کے موقع پر بھیڑ امڈتی تھی اور ہفتہ سے زائد یہاں خوب چہل پہل ہوا کرتی تھی میلاد، صندل، قوالیاں، لنگر وغیرہ لیکن گزشہ دو سال سے یہاں کورونا و لاک ڈاون کے سبب خاموشی چھائی ہوئی ہے گزشتہ سال سے کوویڈ کی وجہ سے دینی و سماجی تقریبات پر کافی ساری پابندیوں کے باعث عرس کی تقریبات کی رونق گم سی ہوگئی ہے۔
ان سب حالات کے باوجود گزشتہ سال کی طرح امسال بھی خانقاہ منصوریہ پر کوویڈ گائیڈ لائنس کی پاسداری کرتے ہوئے عرس کے سلسلے میں صوفی عبدالنعیم عطاء شاہ ابوالعلائی کی سرپرستی میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس عقیدتمندوں نے سوشل ڈسٹنس کا خیال رکھتے ہوئے تقریبات میں شرکت کرکے ذکر واذکار کی مجالس میں شرکت کی ۔ اس موقع پر صوفی عبدالنعیم عطاء شاہ نے بتایا کہ میرے پیرومرشد حضرت خواجہ منصور الحسن قطب الاولیاء نے اسلام ،امن وبھائی چارہ کا درس دے کر انسانیت کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لایا ہے اور تصوف کا درس دیا ہے تصوف کا آئینہ خالق اور مخلوق کے تعلق کی بنیاد ہے یہ وہ راستہ ہے کہ انسان کا اسکے خالق سے رشتہ استوار کرتا ہے۔ رضاۓ الہی اور محبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول کا بہترین ذریعہ اولیاء کرام کی نسبت ہے۔ ان کے ذریعے دینی رہنمائی کا کام ساری زندگی ہوتا رہا اور 1996 میں آپ سے دار فانی سے عالم جاودانی کی جانب کوچ فرما گئے۔
خانقاہ منصوریہ میں درود و ختمات و تلاوت قران شریف، ذکر و اذکار کی مجالس منعقد ہوئیں۔ کھنڈی پاڑہ و اطراف کے ضرورت مندوں میں ان کے گھروں پر جاکر کھانا تقسیم کیا گیا۔ صوفی عبدالنعیم عطاء شاہ صاحب قبلہ کی سرپرستی میں خانقاہ منصوریہ پر عرس کے سلسلے میں قل شریف، ذکر واذکار، محفل سماع، تقسیم لنگر و دیگر تقریبات انجام پائی۔ قل شریف کے بعد نعیم میاں نے دعاء خیر فرمائی اس موقع پر ملک و ریاست میں امن وسلامتی اور کورونا وباء کے خاتمے کے لیے بھی دعا کی گئی۔ اس موقع پر نعیم میاں کے فرزندان حافظ سلطان صلاح الدین خان، نورالدین خان و معین الدین خان بھی موجود تھے بین الریاست و بیرون شہر سے بھی کئی اہم شخصیات نے تشریف لائے ان میں اترپردیش مرزا پور سے صوفی محمد راشد خان، مہاراشٹر کے مالیگاؤں سے اعظم بابا، سانگلی سے صوفی شبیر شاہ، صوفی محسن شاہ، حاجی صدیق درویش قابل ذکر ہیں۔ صوفی عبدالنعیم عطاء شاہ ابوالعلائی گزشتہ لاک ڈاون سے ممبئی و اطراف کے ضرورت مندوں کی وقفہ وقفہ سے راشن، کھانا، ادویات، ماسک، سینی ٹائزر و دیگر اشیاء ضروریات تقسیم کرکے مدد فرمارہے ہیں۔