صلح اور باہمی تعلقات کی اصلاح پر زور دیں : جمعیت وجماعت حکمراں و قائدین طبقہ سے ایک درد مندانہ اپیل

ایک مسلمان اپنی معاشرتی زندگی میں پسندیدہ مسلمان بنے یاد رکھیں اگر کوئی شخص اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں سرگرم ہو مگر بندوں کے حق میں ناکام ہو تو محض اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی سے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کی وہ سب حسنات (نیکیاں) بھی ضائع و بیکار نہ ہوجائیں*
*اور یہ بھی یاد رکھیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے ،آپس میں دشمنی رکھنا،اپنی الگ جماعت و جمعیت بنالینا یا اسی میں لوگوں کو توڑنے اور بگاڑنے اور بنی بنائی جمعیتوں میں پھوٹ ڈالنا ،کسی شخص یا جمعیات کے سابقہ خدمات کو بالکل نظر انداز کردینا ،ذاتیات پر بلاضرورت کمنٹس کرنا اور شوشل میڈیا یا پرنٹ میڈیا یا کسی اور ذرائع کے ذریعے کسی کی توہین کرنا اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ضرار یا چند لوگوں کا گروپ بناکر الگ کسی جماعت یا تنظیم سے جڑنا اور مقامی وضلعی و صوبائی و مرکزی جمعیات اور ان کی خدمات کو نظر انداز کردینا ان کی ٹوٹی پھوٹی خدمات کا اعتراف نہ کرنا،اور ان کا تعاون کرنے کے بجائے ان پر بلا ضرورت زبان کھولنا اور غیر ذمہ دارانہ ،بہکی بہکی باتیں کرنا، مسلکی منافرت و اختلافات کو مزید طول دینا،سماجی ہم آہنگی نہ رکھنا ،آپسی منافرت کو ہوا دینا ، مغفرت الہٰی سے محرومی کا باعث ہے اور دنیا وآخرت میں ندامت و شرمندگی اور ذلت کا سبب ہے۔اور شاید یہ ہماری ایسی بھول ہے جس کا ہمیں ابھی احساس نہیں ہوتا ہے مگر آنے والے چند سالوں میں مزید احساس ہوگا تب تک دیر ہوچکی ہوگی اور باہم ملنے کا وقت جاچکا ہو گا اور حالات ہمارے کنٹرول سے باہر ہوں گے۔کاش ہم سب مل بیٹھ کر ابھی ان سب مسائل اور حالات پر غوروفکر کرتے اور آنے والی نسلوں کی تعلیم و ترقی پر غور کرتے ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی لھذا موجودہ فتنوں سے بچنے اور آنے والے فتنوں کو روکنے کی کوشش کریں "*

*صلح اور باہمی تعلقات کی اصلاح کا حکم:*

*اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ وہ قدم پسند ہیں جو مسلمانوں میں صلح اور باہمی تعلقات کی اصلاح کے لیے اٹھیں۔اور اس بات پر بھی غور کریں کہ صلح کروانا ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں آپس میں صلح کروانے کا حکم بھی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:*
*” إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚوَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ "*
*یاد رکھو سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے (سورۃ الحجرات، آیت :10)*

*لہٰذا جب کبھی مسلمانوں میں ناراضگی پیدا ہو جائے یا خاندانوں،جماعتوں، فریقوں میں اختلافات پیدا ہوجائیں اور توتو میں میں ،ہاتھا پائی،لڑائی ،خون خرابہ یا جنگ وجدال کی نوبت آجائے تو ان کے درمیان صلح کروا کر یہ فضائل و برکات حاصل کرنے چاہئیں نہ کہ مسالہ لگا کر اس معاملے کو طول دیں ۔ اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے آمین*

*بعض دفعہ شیطان ہمیں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ کیا ہم انہیں صلح پر آمادہ کریں گے انہیں سمجھانا تو بیکار ہے، یاد رکھیں! اپنے ہی کسی مسلمان بھائیوں و بہنوں کو سمجھانا بیکار نہیں بلکہ مفید و کارآمد ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:*

*”وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ "( سورۃ الذاریات، آیت :55)*
*’’اور انہیں سمجھاؤ یقیناً سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے‘‘*

*مسلمانوں میں باہمی لڑائی جھگڑا کروا کر آپس میں ان کی پھوٹ ڈلوادینا اور ان کے مابین نفرتیں پھیلانا یہ سب شیطان کے اولین اہم اہداف و مقاصد میں سے ہیں۔ بسااوقات شیطان انسانوں میں سے نیکی وخیر کی دعوت کو عام کرنے والے لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈلوا کر بغض و حسد کی ایک ایسی عظیم دیوار کھڑی کر دیتا ہے جسے صلح کے ذریعے بھی گرانا و ڈھانا اور اس کا مسمار کرنا انتہائی مشکل ترین امر بن جاتا ہے۔*

*صلح کرانے کا طریقہ کیا ہو؟*

*(1)*: *سب سے پہلے صلح کروانے والوں کو چاہئے کہ وہ صلح کروانے سے پہلے خود اللہ عزوجل کی بارگاہ میں کامیابی کی دُعا کریں اور احسن انداز میں صلح کرائیں۔مصلحین کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ سماج میں موجود افراد اور گروہوں میں کسی باہم بات پر تناؤ ہو جائے تو فوراً ان میں صلح کی کوشش کریں۔*
*” لَّا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا”(النساء: 114)*
*بہت سی سر گوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی ،ہاں مگر یہ کہ کوئی صدقہ کا حکم دے یا کسی اچھے کام کی تاکید کرے یا لوگوں میں باہم صلح کی بات کرے ۔اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ کام کرے تو ہم اسے ضرور اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔*

*(2)* : *صلح کرانے والوں کے لیے ان دونوں فریق کو الگ الگ بٹھا کر ان کی شکایات سنیں اور اہم نکات نوٹ کرلیں اور اسی کے مطابق تمام امور کو انجام دیں*

*(3)* : *صلح کرانے والے ایک فریق کی بات سن کر کبھی بھی فیصلہ نہ کریں ، ہو سکتا ہے جس کی بات اس نے سنی ہے وہی غلطی پر ہو، اس طرح دوسرے فریق کی حق تلفی کا قوی امکان ہے جو شرعا غلط ہے اور ایک فریق پر ظلم ہے*

*(4)*: *فریقین کی بات سننے کے بعد انہیں صلح پر آمادہ کریں اور سمجھائیں کہ ہمارے پیارے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی ہمارے لئے اس سلسلے میں بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو جنھوں نے ایذا دیا، ستایا حتی’ کہ اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف کردیا تھا, کتب سیرت و احادیث میں کئی مثالیں بھری پڑی ہیں۔ لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو ایشو بنا کر اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے ناراض ہو جاتے ہیں، اس میں سراسر اپنا نقصان اور شیطان کی خوشی اور تفریح اور لذت کا سامان ہے۔*

*(5)*: *دونوں فریق کو قریب رکھیں انھیں دور کرنے کی کوشش نہ کریں ،باہمی رنجشوں اور ناچاقیوں کے موقع پر صلح نہ کرنے سے فریقین کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے ان میں سے کسی ایک کے ماحول سے دُور چلے جانے، نمازیں چھوڑدینے ،مساجد الگ کر لینے،دیوار الگ اٹھالینے اور دیگر گناہوں میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ بروں کی صحبت اختیار کرنے اور عقائد کے بگڑنے اور اپنی کمزوریوں کے عام ہونے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے ۔لہٰذا اگر بشری تقاضوں کے تحت کسی سے کوئی غلطی یا کسی کوتاہی کا صدور ہو جائے تو اسے معاف کر دینا چاہئے۔ یقینا کوئی بھی جرم ناقابل معافی نہیں ہوتا، اگر کسی انسان سے معاذاللہ کفرو شرک بھی سرزد ہو جائے تو وہ بھی سچی توبہ سے معاف ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف کر دیتا ہے۔*

*(6)* : *فریقین کو صلح کے فضائل اور آپس کے اختلافات کے سبب پیدا ہونیوالے لڑائی جھگڑے، بغض و حسد، گالی گلوچ، بے جا غصے اور کینہ وغیرہ کے دینی و دُنیوی نقصانات بیان کئے جائیں۔*

*(7)* : *فریقین کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے انہیں آپس میں اس طرح سمجھائیں کہ اگر آپ کو ان سے تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی آپ سے رَنج پہنچا ہو گا۔ ہم سب اس دُنیا میں ایک دوسرے کو رَنج و غم و تکلیف دینے اور دوریاں و جدائیاں پیدا کرنے کیلئے نہیں آئے ہیں بلکہ ہم تو آپس میں اتحاد واِتفاق ،الفت و محبت ،باہمی تعاون کے ذریعے جوڑ پیدا کرنے کے لئے آئے ہیں ،لہذا ہم جوڑ پیدا کرنے کے لیے کوششیں کریں نہ کہ توڑ پیدا کرنے کے لیے*

*صلح کا حکم صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں:*

*دشمن کو معاف کرنا یہ ایک مومن کی صفت ہے یہ صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں ،یہ حکم سب کو شامل ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان”*
*” وإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚإِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ "(سورۃ انفال : 61)*

*جب بھی دشمنان اسلام صلح کی طرف مائل ہوئے مسلمانوں نے صلح قبول کرلیا۔*
*(الرحمۃ فی حیاۃ الرسول ،ص:137)*
*سدی اور ابن زید رحمھما اللہ نے آیت کا معنیٰ یہ بیان کیا کہ جب تمہیں صلح کے لیے دعوت دی جائے تو تم اسے قبول کرلو ۔ (الجامع لأحکام القرآن،ج:4,ص:398)*

اگر اعداء اسلام صلح کا اظہار کریں اور غدر و بےوفائی ،خیانت و مکاری چھپائے رکھیں تو ان کی نیت فاسدہ سے آپ کو کچھ لینا دینا نہیں آپ ان سے صلح کرلیں ۔
فرمان ربانی ہے:

*” وَإِن يُرِيدُواْ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ هُوَ الَّذِيَ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ”*
*(سورہ انفال،62)*

*یعنی اگر یہ لوگ صلح کے بعد دھوکہ بھی دینا چاہیں تو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کی اور آپ کے زندگی کی حفاظت اور اس کی ضمانت لی ہے.*
*امام مسلمین اگر اس میں مسلمانوں کی مصلحت دیکھے تو وہ دشمن سے مصالحت کی بات چیت کا آغاز خود کرسکتا ہے،اس کا انتظار نہیں کرے کہ صلح کی ابتداء دشمن کی طرف سے کی جائے۔*

*خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے مقام پر صلح کی جس کے روشن اور تابناک پہلو سامنے ہیں جو ملت اسلامیہ کی رہنمائی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔اور اسلام کے سیاسی نظریات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی حکمت عملی اور مدبرانہ سیاست کو سمجھنے میں معاون رہیں گے ۔راجح مصالح کے پیش نظر مشرکین سے بھی بعض ایسی شرطوں پر بھی صلح کرنا جائز ہے جن میں بظاہر مسلمانوں کا نقصان ہو اور یہ دکھائی دے کہ انہوں نے دب کر یہ صلح کی ہے ۔ایک بڑی برائی کا خطرہ ٹالنے کے لیے کمتر نقصان گوارا کیا جاسکتا ہے۔*
*سورۃ الفتح جب نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو یہ بشارت دی گئی کہ حدیبیہ کے مقام پر جس صلح کو تم اپنی شکست اور ذلت سمجھ رہے ہو وہ فتح عظیم ہے ۔”انا فتحنا لک فتحا مبینا”سورۃ الفتح: آیت 01) تفصیل کے لیے سورۃ الفتح کی تفسیر اور سیرت کی کتب کو پڑھیں اور دیکھیں ۔ حدیبیہ کے صلح کو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین (کھلی ہوئی فتح )سے تعبیر کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ کرام جو چودہ سو کی تعداد یہاں حدیبیہ کے مقام پر تھے سب کے سامنے یہ سورت پڑھ کر سنائی*

*اسلام جنگ وجدال کے مقابلے میں صلح و آشتی کو ترجیح دیتا ہے اور آخری دم تک جنگ ٹالنے کی کوشش کو مستحسن قرار دیتا ہے،ملت کے وسیع تر مفاد میں معمولی خسارہ برداشت کرنا بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ قیادت کو صبروضبط کا غیر معمولی مظاہرہ کرنا چاہیے،عجلت اور جذبات سے مغلوب ہو کر فیصلے کرنا کوئی اچھی بات نہیں ۔
یہ ایک مسلم قیادت کے لیے سراپا عبرت و نصیحت ہے،ان جزئیات کو اپنے ہر قدم پر ملحوظ رکھنا چاہیے۔اور مشورے بھی لینا چاہیے۔*
*صلح اور معاہدے کی تمام دفعات اور شرائط کا پاس ولحاظ نیک نیتی سے کرنا چاہیے اس تعلق سے کوئی بدعہدی یا فریب اسلامی تعلیمات اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے۔صلح کے لیے مرد و عورت کی کوئی قید نہیں۔*

*ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عفو و عافیت ہی کا سوال کرتے تھے۔*
*آپ کہتے: ” اللھم انی اسئلک العفو والعافیۃ فی الدنیا والآخرۃ”*
*اے اللہ تعالیٰ میں تجھ سے دنیاو آخرت میں عافیت کا طالب ہوں ۔اسی عافیت کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کو عفوو درگزر فرما کر دشمن سے صلح و مصالحت کرلیتے،اس لیے حقیقت میں اس صلح کے ذریعے مسلمانوں کو کامیابی ملی ہے۔*

*(سنن ابی داود,کتاب ابواب النوم،،باب ما یقول اذا اصبح،حدیث : 5074),سنن ابن ماجہ،کتاب الدعاء،باب ما یدعوا بہ الرجل اذا اصبح واذا امسی :3871,) و مسند احمد،(4785)سنن النسائی،کتاب الاستعاذہ(5531)و عمل الیوم واللیلۃ (5661)وابن حبان (961)ورواہ البخاری فی الادب المفرد (1200)والطبرانی فی الکبیر (13296)شیخ البانی رحمہ اللہ اور شعیب ارناؤط رحمہ اللہ دونوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور اس حدیث کے رجال بھی ثقہ درجے کے راوی ہیں.*

*یقیناً اگر ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں گے تو بہت اچھے طریقے سے زیادہ سے زیادہ دین کا کام کر سکیں گے۔ باہمی محبت و اتحاد سے جو کام ہو سکتا ہے وہ اکیلے رہ کر نہیں ہو سکتا۔ پھر فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کے درمیان صلح میں سبقت لے جانے کا جذبہ پیدا کر کے انہیں آپس میں ملا دیں، حتیٰ الامکان کسی فریق کو دوسرے فریق کےخلاف بولنے نہ دیں کیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، جب ایک بولے گا تو دوسرا بھی اپنی صفائی کیلئے بول پڑے گا، یوں آپس میں بحث و مباحثہ و تکرار وتقریر ہو کر بسااوقات بات بنتے بنتے بھی بگڑ جاتی ہے اور پھر فریقین کے درمیان صلح کروانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ آپس کی دشمنیوں و ناراضیوں و نااتفاقیوں اور ناچاقیوں سے بچتے رہنا چاہئے کہ ان کی وجہ سے نیکی کے عظیم مشن و کام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔*

*اللہ عزوجل ہمیں نرمی اپنانے، ایک دوسرے کو منانے اور لڑائی جھگڑے سے خود کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔* *آمین*

تحریر : افروز عالم ذکر اللہ سلفی،گلری،ممبئی

afrozgulri@gmail.com

7379499848

05/12/2019

HAJJ ASIAN

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔