نئی دہلی:سوشل میڈیا پر فرقہ واریت کا زہر پھیلایا جاتا ہے،نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں،ملک کی فرقہ وارانہ بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کو ہی دیش بھکتی مانا جاتا ہے۔ٹکراو اور تناو کے معمولی واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن جب ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا کوئی نمونہ سامنے آتاہے تو اس کو ہاتھوں ہاتھ باٹنے والے بھی کم ہوتے ہیں اور اس کے خریدار بھی۔

ایسا ہی ایک نمونہ کیرالہ میں سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک مسجد اور ایک مندرکا سڑک پر داخلی گیٹ نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی طاقت بیان کررہا ہے بلکہ ملک کی ایک خوبصورت تصویر بھی پیش کررہا ہے۔کیرالہ کے کاسرگوڈ ضلع میں مسلمانوں کی ایک مسجد اور ہندو مندر نے مشترکہ داخلی دروازہ تیار کیا ہے۔جس کی تعمیر یوں تو دو دہائی قبل ہوئی تھی لیکن اب تعمیر نو کی گئی ہے۔ جب اس کی بنیاد رکھی گئی تھی اس وقت بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا نمونہ بنا تھا اور اب بھی۔

ایک مثال ایک نمونہ:ہرا ، بھگوا ،نیلا اور سفیدرنگ کا یہ داخلی گیٹ ملک کےلئے ایک مثال ہے۔ بلال مسجد اور مہا وشنو مندر کامشترکہ داخلی محراب بنا کر بین المذاہب اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کی کامیاب اور زندہ مثال پیش کی گئی ہے۔داخلی دروازے کے ایک ستون پر ہے مسجد کی علامت اور ایک ستون پر ہے مندر کی علامت۔ دروازے کی دائیں طرف مسلم ہلال چاند اور بائیں طرف ’اوم‘درج ہے۔ محراب قومی شاہراہ 66 سے دیکھا جا سکتا ہے ۔

کیا ہے قصہ داخلی گیٹ کا:در اصل اس داخلی دروازہ تقریباً 20 سال سے پہلے وجود میں آیا تھا۔ جب اس کو دھات سے تیار کیا گیا تھا ۔بیس سال قبل سی ایم ابوبکر کی قیادت میں میتھل کنیہ کے مسلمانوں نے بلال جامع مسجد تعمیر کی تھی۔ افتتاح کے لئے اراکین نے کنیہ ایام بارا روڈ کے دروازے پر کم قیمت لوہے کی محراب قائم کی۔سی ایم ابوبکر نے اصرار کیا کہ محراب کو مہاوشنو مندر کا بھی ذکر کرنا چاہئے جسے مقامی طور پر یورالمکوڈی مندر کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے مندر کمیٹی کو کچھ نہیں بتایا بس گیٹ تعمیر کردیا۔

مہا وشنو مندر کمیٹی کے صدردامودر دھرن مولوتھنگل کا ماننا ہے کہ اگر بلال مسجد کمیٹی چاہتی تو اس تجویز کو نظر انداز کرسکتی تھی،کیونکہ اس محرابی دروازے سے بلال مسجد کا فاصلہ صرف 300 میٹر کا ہے جبکہ مہا وشنو مندر ایک کلو میٹر دور ہےمگر بلال مسجد کمیٹی نے ایسا نہیں کیا اور داخلی گیٹ مذہبی رواداری کا نمونہ بنایا۔

نئے داخلی گیٹ کی تعمیر کی تجویز

گزشتہ مارچ میں جب مہاوشنو مندر کی دبئی کمیٹی نے ایک نیا محراب تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی تھی تو مندرکی کمیٹی نے کہاتھا کہ کوئی بھی نیا ڈھانچہ صرف بلال مسجد کمیٹی کی مشاورت سے سامنے آنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ 20 سال قبل کا واقعہ ہم سب کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے جب ہم نے گزشتہ مارچ میں ایک نئی محراب کی تجویز پیش کی تو مندر کمیٹی نے ہمیں بلال مسجد کمیٹی سے رابطہ کرنے کو کہا۔ جس کے بعد دونوں کمیٹیاں ایک ساتھ بیٹھ گئیں اور ایک نئی محراب کمیٹی تشکیل دی گئی ۔جس کے چیئرمین عبدالخدر سادھی اور کنوینر کے نارائنن وانیان ولپی تھے۔ اب محراب تیار ہے.۔

تعمیری اخراجات بھی باٹ لئے

دلچسپ بات یہ ہے کہ محراب دار گیٹ کی تعمیر کےلئے ہنفدو اور مسلمانوں نے اخراجات بھی آپس میں باٹ لئے ہیں ۔ مندر کے سربراہ مولوتھنگل کے مطابق دونوں مراکز کے بانیوں نے سڑک پر مشترکہ محراب بنانے کے لئے رقم دی۔ مندر اور مسجد نے کنیہ ایام بارا روڈ پر مشترکہ محراب کی تعمیر کے لئے ڈھائی لاکھ روپے میں جمع کئے۔ مسجد کے خطیب عبد القادر نے کہا کہ اس داخلی راستے کو انسانی محبت پیدا کرنے کے لئے مشترکہ طور پر تیار کیا گیا۔ اس کی وجہ سے مختلف مذاہب کے لوگوں میں دوستی ہوئی۔ دونوں مذہب (ہندو اور مسلمان)مسجد اور مندد کی تعمیر نو اور مرمت میں بھی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت

اہم بات یہ ہے کہ گاوں کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں،ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں بلکہ دعوتیں دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق جب مندر میں کوئی پوجا ہوتی ہے تو مسجد انتظامیہ کی جانب سے خاطر خواہ پذیرائی بھی کی جاتی ہے۔یہی نہیں مولانا قادر نے کہاکہ جب ہم عید میلادالنبی کا جشن مناتے ہیں تومندر انتظامیہ لوگوں میں نذر و نیاز تقسیم کرتی ہے۔گزشتہ سال جب بلال مسجد کی تزئین و آرائش کی گئی تو خطیب نے دیگر برادریوں کے ارکان کو مدعو کیا۔افتتاحی تقریب کو سماجی تقریب میں بدل دیا بنا تھا۔ آج کیرالہ کا یہ چھوٹا سا گاوں ایک عظیم ملک کی مذہبی روایات اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کا نمونہ ہے اور ملک کو ایک ایسی راہ دکھا رہا ہے جو ملک کی صدیوں پرانی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔