صحافی صدیق کپن سپریم کورٹ کے حکم سے ضمانت منظور ہونے کے بعد بھی رہا کیوں نہیں ہو رہے؟

144

لکھنؤ: کیرالہ سے تعلق رکھنے والے صحافی صدیق کپن کی درخواست ضمانت سپریم کورٹ سے منظور ہونے کے باوجود انہیں جیل سے رہا نہیں کیا جا رہا ہے۔

محکمہ جیل خانہ جات کے حکام نے بتایا کہ صدیق کپن کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا ایک مقدمہ زیر تفتیش ہے، لہذا انہیں فی الحال جیل سے رہا نہیں کیا جا سکتا۔

ڈی جی جیل کے پی آر او سنتوش ورما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب تک ای ڈی والے معاملہ میں درخواست ضمانت منظور نہیں ہو جاتی ملزم صدیقی کپن کو لکھنؤ جیل میں ہی رہنا ہوگا۔

خیال رہے کہ صدیق کپن کو اکتوبر 2020 میں یوپی پولیس کی جانب سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ گینگ ریپ متاثرہ کی رپورٹنگ کے لئے ہاتھرس جا رہے تھے۔

قبل ازیں، سپریم کورٹ نے گزشتہ جمعہ صدیق کپن کو ضمانت پر رہا کئے جانے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا ہے، جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ ملزم نے اکسانے کا کام کیا۔