پتر کار ویکاس فائونڈیشن کے وفد کو بھگت سنگھ کوشیاری کی یقین دہانی
ممبئی :۔( اسٹاف رپورٹر) مختلف زبان  و میڈیا کے صحافیوں پر مشتمل پتر کار ویکاس فائونڈیشن کےایک وفد نے مہاراشٹر کے گورنر شری بھگت سنگھ کوشیاری سے راج بھون میں ملاقات کی اور صحافیوں کے مسائل پر مبنی ایک محضر نامہ پیش کیا گورنر موصوف نے اسے پڑھا او ربڑی ہی بے تکلفی کے ساتھ باتیں شروع کیں انہوں نے کہا کہ میں نےاردو سیکھی ہے، پڑھ بھی لیتا ہوں، بڑی میٹھی زبان ہے اس کے اشعار بہت بڑی داستان ایک سطر میں بیان کردیتے ہیں  انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل یقیناً سنگین ہیں مگر جن کی ذمہ داری ہے وہ توجہ نہیں دیتے۔اس موقع پر سرفراز آرزو( مالک و مدیر روزنامہ ھندوستان) نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل تو بہت ہیں لیکن صحافی جو دنیاکے مسائل اٹھاتا ہے ان کے بارے میں لکھتا ہے خوداپنے مسائل بیان نہیں کر پاتا ہے اور نہ لکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون میں سب سے زیادہ متاثر صحافی ہی ہوئے ہیں جو فیلڈ میں نہیں جا سکے گھر پر رہے انہیں ملازمت سے ہی ہٹا دیا گیا جو جان جوکھم میں ڈال کر دفتر جاتے رہے انکی کوئی پرواہ نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے اہم مسئلہ رہائش کا ہے جسے آپ اپنے خصوصی اختیارات سے حل کر سکتے ہیں اسی طرح تحفظ کا اور لوکل ٹرین میں سفر کا مسئلہ بھی سنگین ہے جو حل طلب ہے کیونکہ صحافی کو کبھی بھی کہیں بھی ارجنٹ پہنچنا رہتا ہے اس کے لئے لوکل ٹرین ہی مناسب ہے مگر اس میں سفر کی اجازت نہیں ہے اسلئے وزارت ریلوے سے اس معاملے کو اٹھا کر اوراپنے اختیارات کا استعمال کر کے صحافیوں کو لوکل ٹرین میں سفر کرنے کی اجازت دلائیں۔اسکے علاوہ فاروق انصاری ( مدیر روزنامہ اردو ٹائمز) نے کہا کہ میں نے اب تک ۷ گورنر اسی راج بھون میں دیکھے ہیں اور ان سے ملابھی ہوں لیکن آپ پہلے گورنر ہیں جو اتنا کھل کر بے تکلفی سے بات کر رہے ہیں ورنہ گورنر جس پروٹوکول کے پابند رہتے ہیںاس میں ایسی بے تکلفی نہیں ہوتی ۔گورنر موصوف نے کہا کہ میرا نیچر ہے میں خوش دلی سے ملتا ہوں اور لوگ خوش ہو کر ہی جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سرکار کے پاس آپ کی سفارش بھیجوں گا۔وی ٹی وی بھارت کےشاہد انصاری نے وفد کے صحافیوں کا تعارف پیش کرتے ہحوئےگورنر کو بتایا کہ پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا سمیت تمام صحافیوں کو کورونا کی مہاماری کے دوران بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ،بہت سارے صحافی حضرات اپنے نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اس لئے صحافیوں کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

فاونڈیشن کے صدرمحمد یوسف رانا نے پرنٹ ،الکٹرانک اور شوسل میڈیا کے صحافیوں کو در پیش مسائل کو تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ کورونا کی مہاماری کے دوران ڈاکٹرس،پولس اہلکار، طبی ملازمین کے ساتھ ساتھ صحافیوں نے بھی اپنی بیش بہا خدمات پیش کیں ہیں اس لئے انہیں ’’ انتہائی ضروری خدمات‘‘ کے زمرے میں شامل کرکے ریلوے میں سہولیات دی جائے اورکورنا سے متاثر صحافیوں کو اسپتال میں دوران علاج جو اخراجات ہوئے ہیں دیا جائے نیز جن صحافیوں کی کورونا کی وجہ سے موت واقع ہوگئی ہیں انہیںمعقول مدد دی جائے۔گورنر موصوف نے وفد میں شامل حاضرین کی باتوں کو مکمل طور پر سننے کے بعد آخر میں کہا کہ آپ لوگ آتے رہیئے، فالو اپ کرتے رہیے،پھر کوئی اچھا راستہ بھی نکل آئے گا۔اس وفد میں  پترکار وکاس فاونڈیشن کے فاروق انصاری(مدیر اردو ٹائمز)، سرفراز آرزو(روزنامہ ہندستان)، کنٹینٹ ایڈیٹر شاہد انصاری(ای ٹی وی بھارت)،محمد یوسف رانا(اردو ٹائمز)،فتح محمد خان (مدیر انڈین اسپیچ) وغیرہ شامل تھے۔