شیو سینا کے دونوں دھڑوں میں تنازعہ کا معاملہ پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے سپرد

471

نئی دہلی:23/اگست(ایجنسیز) ادھو ٹھاکرے سے بغاوت کرنے کے بعد بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے والے ایکناتھ شندے پارٹی پر بھی دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملہ کو آئینی بنچ کے سپرد کر دیا ہے۔ شیو سینا کے دونوں دھڑوں کے اس تنازعہ پر اب پانچ ججوں کی آئینی بنچ جمعرات کو سماعت کرے گی۔ آئینی بنچ انتخابی نشان پر فیصلہ کرے گی،

چنانچہ انتخابی کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ جمعرات سے قبل اس معاملہ پر کوئی فیصلہ جاری نہ کرے۔رپورٹ کے مطابق آئینی بنچ کے ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے فیصلہ کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کی توقع ہے، جو آئینی کے دسویں شیڈیول میں شامل ہے۔ آئینی بنچ اس بات پر غور کرے گی کہ آیا ای سی آئی کو شیو سینا کو تسلیم کئے جانے کے تعلق سے فیصلہ کرنا چاہئے؟

خیال رہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کی کارروائی اور اس کارروائی کو عدالت میں چیلنج کرنے کے سبب الیکشن کمیشن کشمکش میں مبتلا ہے۔ سماعت سے قبل مہاراشٹر کے رخصت پذیر وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ عدالت میں جو ہوگا دیکھا جائے گا، مجھے عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے۔خیال رہے کہ ایکناتھ شندے دھڑنے نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی پر اس کا حق ہے، اسی کے ساتھ اس نے الیکشن کمیشن میں بھی درخواست پیش کی ہے کہ ان کے دھڑے کو اصل شیو سینا کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ نیز پارٹی کا انتخابی نشان تیر کمان بھی اسی کو الاٹ کیا جائے۔ اس کے خلاف ادھو ٹھاکرے نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔