Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

شیو سینا کا بی جے پی پر پلٹ وار:بی جے پی کے رکن اسمبلی انمیش پاٹل نے 2016 میں کیا تھا سابق فوجی پرحملہ ، ٹھاکرے حکومت نےدیا تحقیقات کا حکم

ممبئی 15 ستمبر (یو این آئی)شیوسینا نے بی جے پی پر پلٹ وار کرتے ہوئے ، بی جے پی کے رکن اسمبلی انمیش پاٹل کی جانب سے 2016 میں ایک سابق فوجی پر کیے گئے حملے کی کا معاملہ اٹھایا ہے، جس کے بعد وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے اب اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔جس سے بی جے پی کو شرمندگی کا سامانا کرنا پڑ سکتا ہے۔


واضح رہے کہ ممبئی میں مبینہ طور پر شیوسینا کے کارکنوں نے بحریہ کے سابق افسر مدن شرما کو مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے بارے میں ایک توہین آمیز کارٹون شیئر کرنے پر پیٹا تھا۔ جس کے بعد سے حسب اختلاف کی جماعیتں اس معاملے میں وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور شیوسینا کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔شیو سینا نے جب یہ دیکھا کہ مسئلہ بڑھتا جارہا ہے اور بی جے پی اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہےتو اس معاملے میں بی جے پی کو کرارا جواب دینے کے لیے شیوسینا نے اب 2016 کا ایک معاملہ تلاش کیا ہے،جس میں بی جے پی اس وقت کے رکن اسمبلی اور موجودہ رکن پارلینمٹ انمیش پاٹل نے چار سال قبل سونو مہاجن نامی سابق فوجی کو زدوکوب کیا تھا۔


ریاستی حکومت کی جانب سے اس معاملے میں تحقیقات کا حکم دیے جانے کے بعد اب پی جے پی کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے اس کے بارے میں ٹویٹ کیا، انھوں نے لکھا کہ "سنہ 2016 میں بی جے پی کے ایم ایل اے اور اب ممبر پارلیمنٹ انمیش پاٹل اور دیگر نے سابق سپاہی سونو مہاجن پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت کی بی جے پی حکومت نے مہاجن کو انصاف نہیں دیا تھا۔ مجھے موصول ہونے والے متعدد شکایات کے بعد میں نے پولیسکو پاٹل کی تحقیقات کا حکم دیا ہے”۔


دیشمکھ نے یہ بھی کہا کہ یہ کیس سن 2016 میں درج کیا گیا تھا لیکن سابق فوجی پر حملہ کرنے والے پاٹل کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی کیونکہ اس وقت بی جے پی کی حکومت تھی ۔ہائیکورٹ کے ایک حکم کے بعد سن 2019 میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی ۔لیکن پاٹل کے خلاف مزید قانونی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ ”
اس ضمن میں کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے بھی سوال کھڑا کیا ہے اور پوچھا ہے کہ کیا وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سونو مہاجن کو فون کریں گے؟ – اگر ممبئی میں ایک ریٹائرڈ بحریہ کے افسر کی پٹائی کے تنازعہ میں الجھی ہوئی بی جے پی، فوجیوں کی بہت عزت کرتی تو ، جلگاؤں سے تعلق رکھنے والے سابق فوجی سونو مہاجن کو انصاف کے لیے چار سال تک بھٹکنا نہیں پڑتا۔ ان پر 2016 میں حملہ کیا گیا تھا۔ تین سال سے کوئی سادہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ریاست میں دیویندر فڑنویس کی حکومت تھی۔
ریٹائرڈ بحریہ کے افسر مدن شرما پر شیوسینا کے حملے کے بعد ریاست میں ماحول مزید گرم ہو رہا ہے۔ جبکہ بی جے پی نے اس معاملے پر شیوسینا کو گھیرنے کی کوشش کی تھی اب ، ٹھاکرے حکومت نے بھی بی جے پی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی انمیش پاٹل نے سابق فوجی پر حملہ کے معاملے بی جے پی اپنے کھودے ہوئے گڑے میں خود ہی گر سکتی ہے۔