ایودھیا ۔ 21؍نومبر 2018

ایودھیا میں رام مندر تعمیر کو لے کر بی جے پی اور سخت گیر ہندوو تنظیموں نے ماحول بنانا شروع کر دیا ہے ۔ وشو ہندو پریشد 25 نومبر کو مندر تعمیر کے لئے ایک ’دھرم سبھا‘ منعقد کرنے جا رہی ہے ۔ ادھر شیو سینا کے ایک رہنما اجے چوبے کی جانب سے ایک پوسٹر سامنے آیا ہے جس میں صاف لکھا ہے 25 نومبر کو ایودھیا میں مندر تعمیر اور کاشی میں گیان واپی مسجد کو منہدم کرنے کا اعلان ہوگا‘‘۔ اجے چوبے اتر پردیش شیو سینا کے سربراہ ہیں ۔ اجے چوبے کے اس پوسٹر سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ رام مندر تعمیر کرنے کا مقصد نہیں ہے بلکہ فرقہ وارانہ ماحول کو زندہ اور کشیدہ کرنا ہے۔ رام مندر کے بعد ن لوگوں کا اگلا ہدف کاشی کی گیان واپی مسجد ہے ۔ اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کاشی اور دیگرمساجد کی انہدام کرنا ان فرقہ پرست تنظیموں کے ایجنڈے میں ہے۔شیو سینا کے قومی ترجمان سنجےراؤت نے اس پوسٹر کے تعلق سے اپنی لا علمی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ اجے چوبے آخر ہیں کون؟ دوسری جانب جو لوگ اجے چوبے کو جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چوبے سالوں سے شیو سینا سے جڑے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ اجے چوبے نے گزشتہ روز یعنی منگل کو وارانسی کے اردلی بازار میں مہاویر مندر کے آس پاس یہ پوسٹر چسپاں کیے تھے جس کے بعد صدر پولس نے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا ،جہاں سے اس کو جیل بھیج دیا گیا۔اجے چوبے پر فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کی دفعہ 153اے اور مذہبی تنقید کرنے کی دفعہ 295 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

اس درمیان 25 نومبر کو ایودھیا میں ہونے والی دھرم سبھا میں دوایسے لوگ خطاب کریں گے جو بابری مسجد انہدامی کیس میں ملزم ہیں ۔ جذباتی تقریر کرنے والی سادھوی رتمبھرا اور بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ رام ولاس ویدانتی وہ لوگ ہیں جو بابری مسجد منہدم معاملہ میں ملزم ہیں۔
25 نومبر کی تقریب کی تیاریاں دیکھ رہی وشو ہندو پریشد کے ایک رہنما نے بتایا کہ رام ولاس ویدانتی رام جنم بھومی نیاس کے ورکنگ رکن ہیں ۔اس نیاس کا قیام رام مندر تعمیر کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔مدھیہ پردیش ریوا کے رہنے والے ویدانتی پر 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت کے لئے کا ر سیوکوں کو بھڑکانے کا الزام ہے اور سادھوی رتمبھرا بھی اس معاملہ میں ملزم ہیں۔

وشو ہندو پریشد کے ترجمان شرد شرما نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت میں کہا کہ ویدانتی ایک سیاست داں کے طور پر نہیں بلکہ ایک سَنت کے طور پر تقریب میں شرکت کر رہے ہیں ، سادھوی رتمبھرا پرم شکتی پیٹھ کی سربراہ کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کر رہی ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رام مندر کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی ہے۔

وشو ہندو پریشد کے مطابق 25 نومبر کی دھرم سبھا میں ان تمام لوگوں کو بلایا جا رہا ہے جنہوں نے 6 دسمبر 1992 میں بابری مسجد انہدامی کاروائی میں شرکت کی تھی یا اس کے گواہ رہے ہیں۔اس تقریب میں رام جنم بھومی نیاس کے سربراہ نرتیہ گوپال داس، رام جنم بھومی کے ہیڈ پجاری ستیندر داس اور وشو ہندو پریشد کےبین الاقوامی نائب صدر چمپت رائے بھی شامل ہوں گے۔







اپنی رائے یہاں لکھیں