شیر میسور حضرت ٹیپوسلطان شہید کا مختصر تذکرہ

537

از قلم محمدشفیع اللہ ہندوپور آندھراپردیش
رابطہ نمبر 7013271076
———————————————————

قارئین، تحریک آزادی کے اولین مجاہد شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان کی سیاسی ،ملکی ،تعلیمی اور تنظیمی کارنامے محتاج تعارف نہیں ہیں۔ انھوں نے جنگ آزادی میں قائد اور رہنما کا اہم کردار ادا کیا ۔ ٹیپو اپنی حیات زندگی کی آخری سانس تک انگریزوں سے مقابلہ کرتے میدان جنگ میں شہید ہوگئے۔ قارئین ، ہندوستان کی تاریخ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ٹیپو سلطان شہید ؒ جیسے عظیم محبِ وطن بہادر اور بے لوث ملک وملت سے محبت کرنے والے قائد وجنرل کا ذکر نہ کیا جائے قارئین، ٹیپو سلطان شہیدؒ انسانیت دوست حکمران تھے،عدل وانصاف کو قائم کیا،غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کیا،دینداری اور تقوی شعاری کے ساتھ انہوں نے زندگی کو بسر کیا،مخلوقِ خدا کی خدمت بھی کرتے اور خالقِ کون ومکان کے احکام پر بھی چلنے میں پیش پیش رہتے ۔

حضرت مولانامحمدالیاس صاحب ندوی بھٹکلی سیرت ٹیپو سلطان شہید میں لکھتے ہیں کہ جنگ کے حالات ہو یا امن کے ایام حضرت ٹیپوسلطان شہید ہمیشہ علی الصباح بیدار ہونے کے عادی تھے غسل کےبعد نماز فجر محل سے متصل مسجد اعلیٰ ہی میں جماعت کے ساتھ ادا کرتے تھے اس کےبعد ایک گھنٹہ تلاوت کلام پاک میں مصروف رہتے پھر کچھ دیر ورزش بھی کرتے جس کے بعد ہلکاسا ناشتہ ہوتا جس میں عام طور پر حلال پرندوں کا گوشت وغیرہ ہوتا پھر کچھ دیر بعد دربار میں حاضر ہوتے جہاں فوج کے اعلیٰ افسران سے مختصر ملاقات ہوتی اس دوران ان کے ہاتھ میں برابر تسبیح بھی رہتی جس سے وہ اپنے روزانہ کے معمولات ذکرِ واذکار دعائیں پورا کرتے، آپ کے دل میں رب کا ڈر وخوف ایساتھا کہ جب آپ نے مسجدِ اعلیٰ کی تعمیر کا حکم دیا تو دوسال میں مسجد اعلیٰ کی تعمیر مکمل ہوئی اور اس زمانے کے چھ لاک روپے اس پر خرچ ہوے مسجدِ اقصیٰ کے وزن پر اس کانام مسجدِ اعلیٰ رکھاگیا۔

ماہر خطاطوں سے اس مسجد میں چار کتبے تحریر کئے گئے ایک میں تعمیر مسجد کی تاریخ درج تھی دوسرے میں اللّٰہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء حسنیٰ تھے تیسرے میں سیدالکونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ننانوے اسماء گرامی تھے اور چوتھے میں جہاد کے احکام درج تھے اور آپ کا خیال تھا کہ جب میں اپنے محل سے مسجد میں آؤں گا تو بحیثیت باشاہ میری تعظیم کے لئے لوگ کھڑے ہونگے جس سے باقی نمازیوں کوبھی تکلیف ہوگی اس لئے آپ نے قصر شاہی سے مسجد میں آنے کےلئے شمالی جانب ایک الگ دروازہ بنوایا جہاں سے آپ خاموشی سے مسجد میں داخل ہوجاتے اور لوگوں کو آپ کی آمد کا احساس بھی نہیں ہوتا عیدالفطر کےدن اس مسجد کا باقاعدہ افتتاح کیاگیا آپ کی دعوت پر پوری سلطنت کے علماء ومشائخ جمع ہوگئے آپ کی خواہش تھی کہ کوئی ایسا بزرگ اس مسجد کا افتتاح کرے جو صاحب ترتیب ہو یعنی بلوغ کے بعد جس کی کوئی فرض نماز قضاء نہ ہوئی ہو حاضرین میں علماء ومشائخِ وقت کی ایک بڑی تعداد موجود تھی کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں تھاکہ وہ صاحب ترتیب ہے جب کوئی صاحب ترتیب نہیں نکلا تو خود آپ نے آگے بڑھکر امامت کی اور کہا کہ میں الحمدللہ صاحب ترتیب ہو، قارئین، تاریخ داں لکھتےہیں کہ پورے ہندوستان میں ٹیپو کے ماتحت علاقے سب سے زیادہ سر سبز وشاداب اور اس کے باشندے سب سے زیادہ خوشحال تھے ۔

ٹیپو کی ہندو ومسلم رعایا اس پر فدا تھی وہ عوام میں نہایت ہی ہردلعزیز تھا، امریکن مؤرخ برڈزاؤ کلف لکھتاہے کہ ٹیپو ان ذلیل انسانوں کی طرح نہیں مرا جو اپنی جان بچانے کےلئے اپنے دشمنوں کے سامنےہی جھک جاتےہیں، میجر آلن میسور کی چوتھی جنگ میں شریک فوجی افسر لکھتاہےکہ ٹیپو ایک باشاہ کےساتھ ایک بڑا تاجر بھی تھا اس کی شہادت کےبعد جب میں نے اس کو مقام حادثہ پر دیکھا تو اس کےچہرے سے وقار ٹپک رہاتھا جو اس کو عام لوگوں سے ممتاز کر رہاتھا، اور آپ نیک دل انصاف پسند باشاہ تھے،

میجر باسو لکھتاہےکہ ٹیپو حقیقی معنوں میں خدا پرست تھا وہ دو رخی پالیسی نہیں رکھتا تھا کذب و ریاکاری سے ہمیشہ اجتناب کرتا تھا، قارئین یہ الفاظ خود حضرت ٹیپو سلطان شہید کے زبان سے نکلے ہوےہیں ملاحظہ فرمائیں، مردوں کی بہترین تصویر ان کی جوانمردی ہے،اگر میری سلطنت ختم ہوجائےتو میں اس پر راضی ہوں لیکن میں اپنے وفادار دوستوں کو دشمن کے حوالے نہیں کرسکتا، مذہبی پیشواؤں کے ساتھ غداری کرنا اپنی نسل کےلئے تباہی کی دعوت دینا ہے، جولوگ کسی بھی مذہب کےمقدس مقامات کی بےحرمتی کرتےہیں وہ دنیا ہی میں اپنی بد اعمالیوں کی سزا پالیتےہیں، جب آپ کو ظالموں نے شہید کیا تو اس وقت آپ کے زبان پر ایسے الفاظ تھے کہ جو سونے کےپانی سے چاندی کے ورق پر لکھنے کےقابل ہیں آپ نے کہا گیڈر کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے، قارئین آج تو چند فرقہ پرست لوگ ایسے نیک حمکران کو بدنام کرنے پرلگے ہوےہیں ان پر طرح طرح کی جھوٹی کہانیاں بنا کر الزام ڈال رہےہیں بس مالکِ کائنات سے دعاہےکہ ان فرقہ پرست لوگوں کو صحیح سمج وعقل عطافرمائیں آمین یارب العالمین