ممبئی:ہندوستان کے عظیم فنکار اور شہنشاہ جذبات کے نام سے مشہور دلیپ کمار کا 98 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کا علاج کر رہے ڈاکٹر جلیل پارکر نے اس کی تصدیق کی ہے۔ دلیپ کمار کافی دنوں سے علیل چل رہے تھے اور ان کا ممبئی کے ہندوجا اسپتال میں علاج چل رہا تھا۔ کچھ دن پہلے ان کے شفایاب ہونے کے بعد انہیں گھر لے جایا گیا تھا۔ تاہم ان کی طبیعت دوبارہ خراب ہو گئی اور انہیں دوبارہ اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں کئی دن تک وہ آئی سی یو میں داخل رہے۔

دلیپ کمار کو پچھلے ایک مہینے میں دو بار اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ 5 جولائی کو دلیپ کمار کے ٹویٹر ہینڈل سے ان کی صحت سے متعلق اطلاع دی گئی تھی۔ دلیپ کمار کی اہلیہ سائرہ بانو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دلیپ صاحب کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔ وہ ابھی اسپتال میں ہی ہین، انہیں اپنی دعاؤں سے نوازیں لیکن ان صحت سے متعلق اس معلومات کے دو دن بعد ہی دلیپ کمار الوداع کہہ کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

دلیپ صاحب ہندوستان کے قلب میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، صدر رام ناتھ کووند
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے دلیپ کمار کی وفات پر جاری اپنے پیغام میں کہا، ’’دلیپ کمار نے اپنی شخصیت سے ابھرتے ہوئے ہندوستان کی تاریخ کا خلاصہ کیا۔ ان کی دلکش اداکاری نے تمام حدود کو عبور کر لیا اور برصغیر بھر میں انہیں پسند کیا گیا۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ دلیپ صاحب ہندوستان کے قلب میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اہل خانہ اور ان کے بے شمار مداحوں سے میری تعزیت۔‘‘

دلیپ کمار کو نسل در نسل پسند کیا گیا، وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر کیا، ’’دلیپ کمار صاحب سینما کے لیجنڈ کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔ وہ بے مثال مہارت کے حامل تھے، جس کی وجہ سے لوگوں نے نسل در نسل انہیں پسند کیا۔ ان کی وفات سے ہماری ثقافتی دنیا کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے اہل خانہ، دوستوں اور بے شمار مداحوں سے میری تعزیت۔‘‘

دلیپ کمار کو آنے والی نسلیں بھی یاد کیا کریں گی، راہل گاندھی
دلیپ کمار کے انتقال پر اہم شخصیات تعزیتی پیغام جاری کر رہی ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دلیپ کمار کی ہندوستان سنیما میں کارکردگی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون کو آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا، ’’دلیپ کمار صاحب کے اہل خانہ، دوستوں اور مداحوں سے میری دلی تعزیت۔ ہندوستانی سینما کے لئے ان کے غیر معمولی تعاون کو آنے والی نسلیں یاد کیا کریں گی۔‘‘