شہزادہ محمد بن سلمان سے مصافحہ کرنے والے "آغا” کون ہیں؟

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے مدینہ منورہ کے دورے کے دوران تصاویر میں مسجد نبویﷺ میں نماز ادا کرنے سے پہلے "اغوات” جماعت کے ایک بزرگ سے مصافحہ کیا۔

’آغوات‘ کا نام یا اصطلاح دراصل ان رضاکاروں کو دی جاتی ہے جنہوں نے خود کو حرمین شریفین کی خدمت کی خاطر وقف کر دیا۔ انہیں مخصوص معیار کے تحت 40 مختلف پیشوں کی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں۔ شاہ فہد مرحوم نے ان کی آمد کو روکنے کا حکم دیا، اور آج نو دھائیوں بعد ان کی تعداد سیکڑوں سے کم ہو کر چار رہ گئی ہے۔

مدینہ کی تاریخ کے محقق اور ماہر فواد المغامسی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کوبتایا کہ بعض ذرائع کے مطابق آغوات کا پہلا ظہور ایوبی دور سے ہوا ہے۔ بعض مصادر سے پتا چلتا ہے کہ انہیں سندھ، ہندوستان ، ماورا النہر، حبشہ اور افریقہ سے لایا جاتا۔ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی حفاظت اور اس کے دیگرمعاملات کی نگرانی سونپی جاتی تھی۔

محقق نے بتایا کہ جن مسافروں اور مستشرقین نے مدینہ منورہ کا دورہ کیا انہوں نے اپنے کام کی مخصوص اور قطعی تفصیلات اور ان کے انتظامی درجہ بندی کا نظام تحریر کیا۔

اغوات کیا کام کرتے ہیں؟
المغامسی نے وضاحت کی کہ مرورزمانہ کے ساتھ یا نظام کی تشکیل کی وجہ سے ’اغوات‘ کے افعال ایک زمانے سے دوسرے دور میں بدلتے رہے ہیں۔ انہیں مختلف فوجی عہدوں کے برابرسمجھا جاتا۔ ان کے بارہ عسکری عہدے ہوتے۔ ان میں سب سے اوپر’شیخ الاغوات‘ ہوتا۔ اسے سب سے زیادہ عرصے تک حرم نبوی میں خدمات انجام دینے پر یہ لقب دیا جاتا تھا۔ اسے حکمران وقت کی طرف سے تعینات کیا جاتا۔ اس کے بعد شاہی محل کے اغوات میں "الخازندار” ہوتا۔ اس کہ ذمہ داری شیخ الاغوات کے ہمراہ نماز مغرب سے قبل حرم نبوی شریف میں دیے روشن کرنا ہوتا۔

حجرہ نبویﷺ کی چابیاں

اغوات کے مختلف عہدیداروں میں ایک ’المستسلم‘ کہلاتا۔ اس کے پاس حجرہ نبوی کی کنجایاں ہوتی تھیں۔ وہ شمع اور اس میں جلنے والے تیل کی نگرانی بھی کرتا۔ اگر اغوات کو کسی طرف سے کوئی نقدی یا دیگر تحفہ ملتا تو اسے مستسلم ہی وصول کرتا تھا۔

شیخ الاغوات کی عدم موجودگی میں وہ اس کا نائب بھی ہوتا۔ اس کے بعد ایک عہدہ ’امین الاغوات‘ کہلاتا۔

سیاح مستشرق برٹن نے انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں شہر کے دورے کے دوران آغوات کے بارے میں کہا تھا کہ انہیں تین قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے: دربان، مسجد کے مقدس ترین مقامات پر جھاڑو دینے والے اور سب سے نچلی قسم کے بے روزگار اغوات گندگی کی جگہ صاف کرتے ہیں اور مسجدوں میں سونے والوں کو اٹھاتے تھے۔

المغامسی نے ذکر کیا ہے کہ بعض زمانوں میں کے محلے میں الاغوات کی تعداد سینکڑوں میں ہوتی تھی۔ یہ لوگ وہ رمضان کے مہینے میں ایک خاص امام کے ساتھ حجرہ نبوی سے باہر محراب میں پاس کھڑے ہوکر تراویح ادا کرتے۔