از: شکیل مصطفی، مالیگاؤں 9145139913
کتاب کیا ہے؟ انسانی ضمیر کو روشنی بخشنے والا قندیل ،علم و آگہی کا بہترین زینہ، ہوش و خرد کی رہنمائی کے درخشاں مہتاب، تنہائی کی جاں گسل، طوالت کی بہترین رفیق ہی نہیں بلکہ زندگی کی ناہموار راہوں میں دلنواز ہم سفر بھی ہے اور اضطراب و بے چینی کی معالج بھی۔
کتابوں کے مطالعے سے۔
٭ انسان کو اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا احساس ہوتا ہے جسے وہ دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔٭ انسان کے شعور میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔٭ انسان میں اچھے اور برے کی پرکھ اور تنقید کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔٭ فنی تخلیق کی استعداد پید اہوتی ہے۔
کتابوں کے مطالعے کے شوقین افراد انٹرنیٹ سے اخذ کر کے بھی پڑھ رہے ہیں اور اپنے علم وادب کی تشنگی کو بجھارہے ہیں مگر انٹرنیٹ پر پائی جانے والی تمام کی تمام کتابیںقابلِ مطالعہ ہوں یا مکمل ہو یا اس میں خرد بُرد نہ کیا گیا ہو وثوق سے کہا نہیں جاسکتا۔ خلط ملط کا اندیشہ رہتا ہے۔کتابیں اپنے پڑھنے والوں کو عزت ورفعت، دولت و ثروت، شہرت وناموری اور حکومت واقتدار بھی عطا کرتی ہے۔قوموں کے عروج وزوال کے اسباب بھی بیان کرتی ہے۔ کتابیں ، تاریخ کے اُس گوشے کا نام ہے جس میں مبصرین، تفسیر نگار، دانش ور، علماء، اہلِ علم اور اہلِ ادب کی روحیںاپنے اندر موجزن رکھتی ہیں۔

کتاب کے مطالعہ سے انسان کس طرح اپنی زندگی میں انقلاب لاسکتا ہے اس کی ایک مثال:
مولانا عبدالماجد دریا آبادی کو بچپن سے ہی پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اسکول سے آتے ہی اخبارات و رسائل پڑھنے لگ جاتے۔ مولانا عبدالماجد دریاآبادی لندن کے ریشنلسٹ پریس ایسوسی ایشن کی سستی کتابیں پڑھتے تھے۔ ان سستی کتابوں کا اثر یہ ہوا کہ وہ خود کو ریشنلسٹ کہلانا پسند کرنے لگے۔ انٹر میڈیٹ کا امتحانی فارم بھرنے لگے تو مذہب کے کالم میں ریشنلسٹ لکھا۔ ۱۹۲۰ء میں سفر دکن اپنے ایک عزیز ناظر یار جنگ کے یہاں اورنگ آباد میں ٹھہرے۔ اُن کی قیام گاہ میں ایک انگریزی کتب خانہ تھا۔ یہاں انگریزی زبان میں قرآن پاک کی تفسیر پڑھی تو حالات یکسر بدل گئے۔ توبہ کیا اور کلمۂ طیبہ پڑھا۔ ریشنلسٹ کا جھوٹا طوق اپنے گلے سے اتارپھینکا اور مرتے دم تک دین کی خدمت میں لگ گئے۔ مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے الحاد سے اسلام تک کے سفر میں جو چیز مد نظر رہی وہ مطالعہ رہا۔ مطالعہ کے برکات وفیوض سے وہ دین کے سچّے داعی بن گئے۔ مولانا موصوف نے انگریزی اور اردو میں قرآن پاک کی تفسیر لکھی۔ انھیں انگریزی، فارسی، عربی اور اردو زبان پر مکمل قدرت حاصل تھی۔ قرآن پاک اور مثنوی مولانا روم کے مطالعے سے ان میں ذہنی تبدیلی آئی۔

محترم قارئین! آخر میں ایک اہم بات ذہن میں رکھنے والی ہے وہ یہ کہ کتابوں کا غلط انتخاب اتنا ہی مضر ہے جتنا غلط دوستوں کا انتخاب۔ ہر دن تنہائی میںصرف ایک گھنٹہ اچھی کتابوں کا مطالعہ کیا کروگے تو چند ہی دنوں میں تمہاری معلومات میں اتنا اضافہ ہوجائے گا کہ تم کو حیرت ہوگی۔