Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ کی طرز پر ناندیڑ میں بھی غیر معینہ دھرنا شروع

IMG_20190630_195052.JPG

ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز)شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کیا جارہاہے ۔خاص طورپر دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کی جانب سے کئے جارہے احتجاجی دھرنے ملک میں اپنی ایک الگ شناخت بنالی ہے ۔اسی نوعیت کے غیر معینہ دھرنے اب جگہ جگہ ہونے لگے ہیں ۔ناندیڑ میں کل جماعتی تحریک نے ”ناندیڑ کی آواز “ کے عنوان سے دہلی کی شاہین باغ کی طرز پر شہر کے دفتر ضلع کلکٹر کے سامنے غیر معینہ احتجاجی دھرنا شروع کردیاہے ۔

آج صبح گیارہ بجے احتجاجی دھرنے کی شروعات ہوئی ۔شروع سے ہی سیکڑوں کی تعداد میں لوگ اس میں شامل ہورہے ہیں ۔دھرنے کےلئے دی گئی جگہ کم ہونے سے محدود تعداد میں لوگوں کو الگ الگ شفٹوں میں حصہ لینے کا موقع دیا جارہاہے ۔اس کےلئے شہر کے الگ الگ بستیوں کے لوگوں کو انہیں کب شامل ہونا ہے اسکی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔

اس دھرنے آندولن کی غرض وغائیت بیان کرتے ہوئے کل جماعتی تحریک کے صدر مفتی ایوب قاسمی نے اس آندولن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے جو سیاہ قانون اس ملک میں لاگو کیا ہے وہ قانون دستور مخالف قانون ہے اور ہم اس قانون کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ بی جے پی حکومت دراصل اپنی فرقہ پرست ذہنیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ شہریت ترمیی قانون سے نہ صرف مسلمان متاثر ہوں گے بلکہ ہمارے برادران وطن بھی اس سے متاثر ہو نگے ، یہ سیاہ قانون انسانیت کے خلاف ہے ۔ آج ناندیڑ کی عوام نے اس کل جماعتی تحریک کے آندولن میں کثیر تعداد میں شرکت کر یہ بتا دیا ہے کہ ہم اب متحد ہو چکے ہیں ، کل جماعتی تحریک جس میں تمام مسلک کے لوگوں نے اپنے اپنے نظریات کو بالائے طاق رکھ کر اس تحریک میں شامل رہے ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ مولانا سرور قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت ہند کو یہ بتانا چاہتے ہیں۔ کہ تم ہم پر کتنے بھی ظلم کرو لیکن ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ کالا قانون حکومت بہت جلد واپس لے گی۔ مولانا مفتی مرتضیٰ مصباحی نے کہا کہ آج کا یہ بے مدت دھرنا آندولن جو ناندیڑ میں شروع کیا گیا ہے وہ شاہین باغ کہ طرز پر شروع کیا گیا ہے اور ناندیڑ کی عوام کثیر تعداد میں اس بے مدت دھرنے اندولن میں شریک ہورہے ہیں ۔اس موقع پر مولانا آصف ندوی لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا شدید احتجاج اس قانون کےخلاف کرائے انہوں نے دہلی کے جے این یو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کے حوصلوں اور عزائم کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان طلبہ اور نوجوانوں کی جدوجہد کو کبھی رائے گاہ نہیں ہونے دیں گے آج سارے ملک میں اس سیاہ قانون کےخلاف احتجاج کیا جارہاہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔دھرنے میں شریک مظاہرین نے اپنے سراور بازو¿ں سیاہ پٹی باند ھ کر اپنا احتجاج درج کرایا یہ احتجاج صبح گیارہ جے سے لیکر چوبیس گھنٹوں تک جاری رہے گا ۔کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران نے بتایا کہ ہمارا یہ دھرنے آندولن بے مدت دھرنے آندولن ہے ۔اس دھرنے آندولن میں نہ صرف مرد حضرات شرکت درج کرائیں گے بلکہ ناندیڑ کی خواتین بھی اس میں شرکت کا عزم ظاہر کی ہے ۔آج دن بھر دفتر ضلع کلکٹر کے سامنے واقع اس دھرنے آندولن کے پنڈال میں نہ صرف مسلم سیاسی ،سماجی تنظیموں کے ذمہ داران بلکہ براداران وطن کے کئی ایک تنظیموں کے ذمہ داران نے بھی شرکت کر اپنا احتجاج درج کرایا ۔دھرنے میں کانگریس کی جانب سے سابقہ اسٹانڈنگ کمیٹی کے چیرمن مسعود احمد خان ،شمیم عبداللہ ،عبدالغفار ،ایم آئی ایم کے سابقہ ریاستی صدر سید معین ،فیروز لالہ ،این سی پی کے ضلع یوتھ صدر رو¿ف زمیندار ،ڈاکٹر مجاہد پٹھان ،ونچت بہوجن اگھاڑی کے ریاستی ترجمان فاروق احمد کے علاوہ دیگر سماجی ،سیاسی تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی ۔