لٹیروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا ، عمران خان مستعفی ۔ قومی اسمبلی سے پاکستان تحریک انصاف کا واک آؤٹ

اسلام آباد : پاکستان میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہبازشریف نے پیر کو نئے وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے حلف لیا ۔ صدر عارف علوی کی طبعیت ناساز ہوجانے کے باعث قائم مقام صدر ( سینیٹ چیرپرسن ) صادق سنجرانی نے شہباز شریف کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا ۔ تقریب حلف برداری پُرشکوہ نظر آئی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین یکجا دکھائی دیئے جو اپنے آپ میں پاکستانی سیاست کا نیا منظر نامہ پیش کرتا ہے ۔ جیسے ہی شہباز شریف نے حلف کی تکمیل کی ، ایوان میں اُن کی تائید و حمایت میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور تالیوں سے ایوان گونج اٹھا ۔ بعد ازاں اپنی اولین تقریر میں نئے وزیراعظم نے خصوصیت سے کشمیر کا مسئلہ چھیڑا اور کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو پاکستان کی حمایت جاری رہے گی ۔ قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار شہباز شریف پیر کو ملک کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ۔قومی اسمبلی میں نئے قائد کے انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل۔ این) کے صدر شہباز شریف کے حق میں 174ووٹ ڈالے گئے ۔ ووٹنگ کے عمل سے پہلے عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ نے ’اپوزیشن‘ جماعتوں کے قائدین اور امریکہ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔دریں اثناء عمران خان قومی اسمبلی سے مستعفی ہوگئے اور کہا کہ وہ مقننہ کے ایوانوں میں لٹیروں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔ انھوں نے ٹوئٹر پر ویڈیو پیام میں کہاکہ ایسا شخص جس کے خلاف 16 بلین روپئے کا کرپشن کیس ہے اور ایک مزید کیس 8 بلین روپئے کا بھی ہے ، اُسے وزیراعظم منتخب کیا جانا ملک کے لئے اور کیا توہین آمیز اقدام ہوسکتا ہے ۔ اس سے قبل پی ٹی آئی نے اپنی جانب سے عمران حکومت میں وزیر خارجہ رہنے والے شاہ محمود قریشی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانے کا اعلان کیا تھا۔قریشی کے بائیکاٹ کے بعد ان کے ساتھ موجود اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے ۔ وزیراعظم کے عہدہ کیلئے ووٹنگ رکن اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہوئی۔