شہادت بابری مسجد کے ملزمین کا عبرتناک انجام

0 15

نئی دہلی 26 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی میں 75 سال سے زائد عمر کے بوڑھے قائدین کو لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ کے بجائے یہ کہتے ہوئے گھر بھیجا جارہا ہے کہ ملک اور پارٹی کی بہت خدمت کرلی ہے۔ اب گھر جاکر آرام کیجئے۔

 

پارٹی میں کام کرنے والے نوجوان اور ادھیڑ عمر کے قائدین کو اپنی بک بک سے بور مت کیجئے۔ اب آپ لوگوں کی عمر ہوچکی ہے۔ پارٹی کو آپ لوگوں نے اقتدار تک پہنچایا ہے۔ اس کے صلہ میں ہم آپ سے یہی کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے بالکل رضاکارانہ طور پر یہ اعلان کردیں کہ ہم انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ بہرحال بی جے پی نے بوڑھے قائدین سے اس طرح کے الفاظ کہنے کے لئے رام لال کو منتخب کیا ہے۔ اس سلسلہ میں 85 سالہ مرلی منوہر جوشی کا ایک مکتوب منظر عام پر آیا جس میں اُنھوں نے کانپور حلقہ کے رائے دہندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا : ”شری رام لال جنرل سکریٹری بی جے پی نے مجھ سے ملاقات کی اور کہاکہ مجھے مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں کانپور یا کسی اور حلقہ سے مقابلہ نہیں کرنا چاہئے“۔ واضح رہے کہ بی جے پی میں 75 سال سے زائد عمر کے حامل قائدین کو انتخابات میں مقابلہ کرنے سے روک دیا گیا ہے حالانکہ 85 سال کی عمر میں بھی مرلی منوہر جوشی اور 91 سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود ایل کے اڈوانی بی جے پی کے نوجوان اور ادھیڑ عمر کے قائدین سے کہیں زیادہ سرگرم ہیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی پارٹی قائدین سے کافی ناراض ہیں۔ انھوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ انھیں پارٹی میں اس قدر ذلیل و خوار کیا جائے گا۔ مرلی منوہر جوشی ماضی میں پارٹی کے صدر اور مرکزی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ 2014 ءکے عام انتخابات میں اُنھوں نے اپنا حلقہ وارانسی نریندر مودی کو دے دیا تھا اور خود کانپور سے مقابلہ کیا تھا اور بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے بوڑھوں میں کلراج مشرا، شانتا کمار، کاریہ منڈا، بھگت سنگھ، کوشیاری، بی سی کندوری، حکم دیو نارائن یادو وغیرہ شامل ہیں، اِن تمام نے بی جے پی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اپنی ہی پارٹی کی جانب سے ذلیل و خوار کئے جانے والے ان بوڑھوں میں شہادت بابری مسجد کے مجرمین اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں نے بابری مسجد کے ہندوتوا غنڈوں کے ہاتھوں مسمار کئے جانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ اب قدرت نے ان کی عزت ہی مسمار کردی۔ بابری مسجد کی شہادت میں راست اور بالواسطہ طور پر ملوث درندوں کا عبرتناک انجام ہوا ہے بعض کی نعشوں کو کتوں نے نوچ کھایا ہے اور ساری دنیا نے اُس منظر کو دیکھا بھی ہے۔