نئی دہلی: مشہور ناول اورفکشن نگار مشرف عالم ذوقی کی اہلیہ، فلمساز، صحافی اور افسانہ نگار تبسم فاطمہ شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے آج تقریباً چھ بجے شام اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ان کی عمر تقریباً پچاس تھی۔ پسماندگان میں ایک بیٹا شاشا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ لیور کینسر سے متاثر تھیں جس کا علاج چل رہا تھا۔ کل ہی ان کے شوہر مشرف عالم ذوقی کا انتقال ہوا تھا اور آج وہ اپنے شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کرپائیں اور اپنی روح خدا کے سپرد کردی۔

محترمہ فاطمہ تبسم نے دوردرشن کے لئے متعدد سیریلس بنائی تھیں، وہ صحافت سے بھی وابستہ تھیں اور کئی اداروں میں میڈیا ایڈوائزر کی ذمہ داری بھی ادا کی تھی۔ انہوں نے افسانے کے ساتھ شاعری بھی کی تھی۔ ان کے شعری مجموعہ کا نام ’تمہارے خیال کی آخری دھوپ‘ ہے۔ وہ بے حد ملنسار اور مہمان نواز تھیں۔ سیریل بنانے میں اپنے شوہر کا ہاتھ بھی بٹاتی تھیں اور پروڈیوسر کی ذمہ داری بھی ادا کرتی تھیں۔اردو کے علاوہ ہندی میں ان کی کہانیاں شائع ہوئی ہیں۔ ہندی کتابوں میں ’جرم اور انیہ کہانیاں‘، ’اردو کی شاہکار کہانیاں‘ ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعے کا نام ’لیکن جزیرہ نہیں‘ ہے۔

ان کے انتقال سے ان کے بیٹے شاشا پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ اردو دنیا ان کی موت سے حیرت زدہ اور غموں سے نڈھال ہے۔ اس طرح غموں کے پہاڑ شاید ہی ٹوٹتے ہیں۔ ایک امید تھی کہ مشرف عالم ذوقی کے ادھورے کاموں کو وہ پورا کریں گی لیکن وہ خود بھی شوہر کے پاس چلی گئیں اور اردو دنیا کو غمگین کرگئیں۔