شوہر کو جگر کا عطیہ دے کر زندگی بچانے والی خاتون ٹیچر ھبہ الجوہری کون ہیں؟

697

میاں بیوی کے درمیان وفاداری اور احساس محبت کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں مگر مصر سے جہاں آئے روز طلاق کی منحوس خبریں سامنے آتی ہیں ایک خاتون کی اپنے شوہر کے ساتھ وفاداری کی ایک عمدہ مثال سامنے آئی ہے۔

یہ خاتون جنہیں ھبہ عطیہ ابراہیم الجوہری کہا جاتا ہے پیشے کے اعتبار سے ایک اسکول میں معلمہ ہیں۔ ھبہ ابراہیم الجوہری نے اپنے بیمار شوہر احمد عبدالحمید کو اپنے جگر کا دو تہائی حصہ عطیہ کر کے ان کی یقینی موت کو زندگی میں بدل دیا۔

مصرمیں عوام وخواص میں ھبہ کی اپنے شوہر سے وفاداری کے چرچے ہیں اور سوشل میڈیا پران کی اس وفاداری کی مثال پیش کی جا رہی ہے۔تینتالیس 43 سالہ ھبہ کے شوہر احمد عبدالحمید کچھ عرصے سے جگر کی تکلیف کا شکار تھے۔ معائنے کے بعد پتا چلا کہ ان کے جگرمیں پھوڑا پیدا ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ان کے جگر کا بیشتر حصہ ناکارہ ہوگیا ہے۔

معاملہ منگنی سے شروع ہوا
خاتون ٹیچر ھبہ ابراہیم الجوہری نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو کہانی سناتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ آج کا نہیں بلکہ 17 سال پہلے اس وقت شروع ہوا جب اس کے ہونے والے شوہر نے ان کا رشتہ مانگا۔ بلبیس شہرسے تعلق رکھنے والی ھبہ کا کہنا ہے کہ جب مجھے بتایا گیا کہ میرے منگیتر کو جگر کا عارضہ ہے۔

میرے رشتہ داروں نے مجھے رشتہ برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار دیا۔ میں نےاپنے والد اور والدہ سے مشورہ کیا کیونکہ میں ان کی اکلوتی بیٹی تھی اور والدین مجھے پریشان نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ والد نے اسے بتایا کہ یہ خدا کی تقدیر ہے اور ایک صحت مند شخص اچانک مر سکتا ہے۔ ممکن ہے احمد عبدالحمید کی زندگی ہو۔ خدا کسی ایسے شخص کے لئے زندگی لکھتا ہے جو لاعلاج بیماری میں مبتلا ہے لہذا اس نے منگنی اور شادی مکمل کرنے کا فیصلہ کیا‘۔

مصری خاتون ٹیچر نے بتایا کہ ان کی شادی ہو گئی۔ شادی سے چار بچے پیدا ہوئے۔ چاروں بچے اس وقت اسکول جاتے ہیں۔ اس پورے عرصے میں اس کے شوہر نے اسے ناراض نہیں کیا اور وہ اسے خوش کرنے اور اس کے بچوں کی خوشی کے لیے وقف ہیں۔ میرے والدین کی وفات کے بعد اب شوہر ہی میرا سہارا ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شوہر کے جگرمیں وائرس برسوں میں پہلے پیدا ہوا۔ مؤخر وائر بھرپور طریقے سے فعال ہوا اور اس کے شوہر کے جگر پر شدید حملہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ سیروسس کا شکار ہو گئے اور جگر میں ٹیومر پیدا ہو گیا۔ اب ان کی زندگی بچانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ کوئی انہیں اپنا دو تہائی جگر عطیہ کر دیتا۔ میں نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے اپنے شوہر کی زندگی چاہیے اور میں نے اپنا جگر انہیں دے دیا۔

مصری معلمہ کا کہنا ہے کہ زقازیق یونیورسٹی اسپتال کے ڈاکٹر ٹیومر کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن اس کے بعد ان کے شوہر کی طبیعت بگڑ گئی جس کے بعد جگر کا ایک اور سیروسس ہو گیا اور ڈاکٹروں نے انہیں کہا کہ وہ ڈونر کی تلاش کریں۔ کیونکہ ان کے جگر کا دو تہائی حصہ ناکارہ ہو گیا ہے۔ تاہم آپریشن ریاست کی ہیلتھ انشورنس کے خرچ پر مفت ہوا۔