از قلم : سید ذاکر علی. موبائل نمبر 9139757546 حال ہی میں مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ جناب امتیاز جلیل صاحب نے چھترپتی شواجی مہاراج کا نام بڑی عزت و احترام سے لیتے ہوئے اپنی دلی تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "کاش! مجھے شیو جینتی کمیٹی کی صدارت کا موقع ملتا تو کتنا اچھا ہوتا !!!” امتیاز جلیل صاحب کے اس بیان سے آر ایس ایس اور بی جے پی جل بھن کر رہ گئی. کیونکہ انھوں نے اپنے اس بیان کے ذریعے گویا آر ایس ایس اور بی جے پی کے ہندو مسلم نفرت پیدا کرنے کے منصوبے پر پانی پھیر دیا اور دوسری جانب مسلمانوں کو بھی ایک صحیح فکر سے آگاہ کیا. ظاہر ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین جیسی مسلم نواز سیاسی تحریک بھی چھترپتی شواجی مہاراج کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہو، تو بات ہی کچھ ایسی ہے کہ یقیناً شواجی مہاراج کا مسلمانوں سے بڑا گہرا رشتہ رہا ہے.

چنانچہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی فرقہ پرست سیاسی قوتیں مراٹھا سماج اور مسلمانوں کے درمیان شدید نفرت پھیلانے کی خاطر شواجی مہاراج کے نام کا سیاسی استعمال کرتی ہے. تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ شواجی مہاراج مسلمانوں اور اسلام کے دوست ہی رہے ہیں. بلکہ اورنگ زیب کے درباری مورخ قافی خان نے صاف طور پر اپنی کتاب "منتخب الباب” میں لکھا ہے کہ چھترپتی شواجی مہاراج قرآن کا اور خواتین کا بے حد احترام کرتے تھے اور خاص بات یہ کہ وہ برہمن ازم کے بھی سخت دشمن تھے ، جس برہمن ازم کی بنیاد پر آج آر ایس ایس اور بی جے پی سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے ہندو مسلم منافرت کا خونی کھیل کھیلتی ہے. مشہور تاریخ "منتخب الباب” کے حوالے سے مشہور مصنف جناب م خ شازلی نے اپنی تاریخی کتاب "شواجی مہاراج، ایک انقلابی شخصیت” میں بھی اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے. لیکن ہم اس موضوع کے ایسے پہلو کو واضح کرنا چاہتے ہیں، جسے آپ نے نہ کبھی دیکھا، نہ پڑھا اور نہ سنا اور نہ ہی موجودہ بدترین سیاسی نفاق کے شور و غل میں اس کا کوئی خیال آپ کے دل و دماغ پر گزرا ہو. کسانوں کی تحریک کو موضوع بنا کر ملک عزیز بھارت میں برہمنی سیاسی صنم کدوں کو اپنی تلخ قلم سے زمین بوس کرنے والے اسلام دوست مصنف جوتی راؤ پھلے کی مراٹھی کتاب ” شیتکریانچا آسوڑ” (शेतकर्‍यांचा आसूड) میں اس راز سے پردہ اٹھایا گیا ہے.

چنانچہ اسی کتاب میں جوتی راؤ پھلے لکھتے ہیں کہ… "حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مخلص پیروکاروں کے قدم اس ملک میں پڑے، تو نتیجے میں اپنے پاکیزہ توحید کے نظریے کی قوت سے برہمن آریاؤں کے منافقانہ اور مفاد پرستانہ مذہب کو شکست دینے لگے. ایسے میں ہم جیسے شودر آتی شودر (یعنی کہ برہمنوں کے ذریعے اعلان کردہ نچلی ذات کے لوگ) دین محمدی کے گوشہء عافیت میں پناہ لینے لگے. اس واقعے سے برہمنی نظام کے پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگی اور ہاتھ سے اقتدار جاتے ہوئے نظر آتے دیکھ کر ایک خوب چال چلی. وہ یہ کہ مکند راج بھٹ نام کے برہمن نے "وویک سندھو” نام کی ایک تصنیف لکھی، جس میں راماین اور مہابھارت کی خیالی کہانیاں بیچارے ناخواندہ غیر برہمن ہندوؤں کو سنا سنا کر مسلمانوں کے خلاف لڑائی پر اکسایا. تاکہ عام غیر برہمن ہندو مسلمانوں سے دور رہیں اور ان سے نفرت کرنے لگے اور اسلام قبول کر برہمن ازم کا اقتدار کے لئے خطرہ نہ بنے.” موضوع کافی طویل ہے اور اس مختصر سی تحریر میں اس کی وضاحت ممکن نہیں ہے. پھر بھی مختصر یہ کہ یہی وہ سیاسی چال اور سیاست کا خونی کھیل ہے، جو بی جے پی اور آر ایس ایس آج بھی کھیل رہی ہے. خود مسلمانوں کے دشمن برہمن بھی یعنی کہ شواجی مہاراج کے دور کے آر ایس ایس کے سربراہ لوگ شواجی مہاراج کو شودر یعنی کہ نچلی ذات کے سمجھتے تھے اور ان کی تاج پوشی کی مذہبی رسومات ادا کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ شودروں کو اقتدار کا حق حاصل نہیں ہے. ( بحوالہ، شواجی مہاراج ایک انقلابی شخصیت ، م خ شازلی ،صفحہ نمبر 278 ) ظاہر ہے کہ شواجی مہاراج کو اس بات کا بڑا صدمہ ہوا اور ان کے لئے اقتدار میں برہمن ازم سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی. بہرحال یہ ایک طویل موضوع ہے. مختصر یہ کہ اورنگ زیب عالمگیر اور دیگر سربراہان مملکت سے ان کی یقیناً سیاسی جنگ ضرور تھی نہ کہ مذہبی جنگ. تاریخ سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ان کی فوج میں بڑے بڑے عہدوں پر نامور مسلمان بھی تھے، حتیٰ کہ شواجی مہاراج کی موجودہ تصویر بھی بنانے والے فنکار ایک مسلمان ہی تھے. مزید یہ کہ شواجی مہاراج کے سچے پیروکار پروفیسر ارون کمار نے سید افتخار صاحب کے قرآن کے مراٹھی ترجمے کے رسم اجرا کے موقعے پر دوران تقریر کہا تھا کہ… ” میرے مسلمان بھائیوں! آپ نے ہمیں عید کے روز گلے سے لگایا، شیر خورمہ پلایا. لیکن جس قرآن کا احترام شواجی مہاراج کرتے تھے، اس قرآن کریم کی ہمیں دعوت نہیں دی. لیکن بہرحال اب اس قرآن کریم کو ہم اپنے سر پر اٹھا کر لوگوں کو اس کی دعوت دیں گے. کیونکہ اسی قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہ اگر تم دعوت نہیں دوگے تو اللہ دوسری قوم کو کھڑا کریگا. اور قرآن کی یہ پیشن گوئی ہم شواجی مہاراج کے پیروکاروں کے لئے ہے…. "

انھوں نے مزید کہا کہ اے مسلمان بھائیوں! شاید آپ کے دل میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ جب میں نے قرآن کی اتنی تعریف کی ہے تو اسلام کیوں قبول نہیں کرتے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تمام انسانوں کے قلوب اللہ کے ہاتھ میں ہیں. جب اللہ تعالیٰ ہدایت دیگا تو ہمارے لئے سب سے خوشی کا دن ہوگا!!! "