نئی دہلی، 14 مارچ (یو این آئی) دہلی کی ایک عدالت نے پیر کو شمال مشرقی دہلی فسادات کیس میں گرفتار سابق کونسلر عشرت جہاں کی ضمانت کی عرضی کو منظور کر لیا۔ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد محترمہ عشرت کو کچھ شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی۔ عدالت نے کیس میں شریک ملزمان شرجیل امام اور سلیم خان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ 22 مارچ تک موخر کردیا۔

محترمہ عشرت کے وکیل نے عدالت کے سامنے استدلال کیا کہ ان کے موکل کے خلاف دہلی فسادات کی سازش کیس میں ان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور استغاثہ نے اسے اس معاملے میں جھوٹے طورپر پھنسایا ہے۔محترمہ عشرت کوفروری 2020 میں سی اے اے-این آر سی کے خلاف شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔