ہندوستان میں امرتسر اور بیرون ہند تاجکستان زلزلے کا مبدا ۔ افغانستان میں بھی جھٹکے محسوس کئے گئے

نئی دہلی /اسلام آباد : شدت کے زلزلے نے آج رات شمالی ہندوستان کے کئی حصوں اور پاکستان کے علاقوں کو دہلادیا جبکہ اس کا مبدا تاجکستان میں بتایا گیا ہے ۔ 6.1 شدت کا زلزلہ جمعہ کی شب دہلی این سی آر اور شمالی ہند کے کئی دیگر حصوں میں محسوس کیا گیا ۔ نیشنل سنٹر فار سیسمالوجی کے مطابق ہندوستان میں زلزلہ کا مبدا امرتسر ہے۔ یہ زلزلہ رات 10.34بجے 10 کیلو میٹر کی گہرائی میں پیش آیا ۔ تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ حتی کہ پاکستان میں بھی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے ۔ حالانکہ وہاں زلزلہ کی شدت 6.4 ریکارڈ کی گئی ۔ اسلام آباد کی اطلاع کے بموجب نیشنل سیسمک مانیٹیرنگ سنٹر سے معلوم ہوا کہ زلزلہ کا مبدا تاجکستان ہے جہاں رکٹر اسکیل پر زلزلہ کی شدت 6.2 درج ہوئی ۔ تاجکستان سے چینی صوبہ سنکیانگ کے علاقہ تک زلزلہ محسوس کیا گیا اور وہاں یہ 86 کیلو میٹر کی گہرائی میں پیش آیا ۔ طاقتور جھٹکے افغانستان میں بھی محسوس کئے گئے ۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ خیبر پختون خواں ، پنجاب کے بڑے شہروں نیز پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا ۔ پاکستان میں نیوز چیانلوں پر دکھایا گیا کہ خوف و ہراس میں مبتلا لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل رہے ہیں ۔ انہیں قرآن مجید کی آیتیں پڑھتے دیکھا اور سنا گیا ۔ دہلی اور این سی آر کے علاوہ ہندوستان میں جموں و کشمیر اور آس پاس کے دیگر علاقوں میں بھی کئی سیکنڈس تک جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے ٹوئٹر کے ذریعہ اپنی تشویش و فکر مندی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ہر کسی کی سلامتی کیلئے دعا کررہے ہیں ۔ شمالی ہند میں اتراکھنڈ ، پنجاب ، ہریانہ ، راجستھان اور اترپردیش بھی زلزلہ کی زد میں آئے ۔ سرینگر میں ویڈیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ لوگ اپنے گھروں سے تیزی سے باہر نکل رہے ہیں ۔ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے ساتھ ہی ٹوئٹر پر لوگوں نے اپنی فکرمندی اور اپنے رشتہ داروں و دیگر احباب کی خیر خیریت کے تعلق سے پوسٹ ڈالے ۔ پاکستان جغرافیائی طور پر یوروپ و ایشیائی اور ہندوستانی ارضی خطوں سے جڑا ہوا ہے اور وہ زلزلوں کے معاملے میں مخدوش علاقہ ہے ۔ 2005 ء میں پاکستان 7.6 شدت کے زلزلے کی زد میں آیا تھا جس کے نتیجہ میں زائد از 73 ہزار افراد کی موت ہوئی تھی ۔ جمعہ کی شب کے مناظر سے بظاہر وہی 15 ، 16 سال پرانی قدرتی آفت کی یاد تازہ ہوگئی لیکن خوش قسمتی سے فوری کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ چند گھنٹوں میں واضح ہوگا کہ ہندوستان سے لیکر افغانستان اور تاجکستان تک پیش آئے زلزلے نے کیا کیا تباہی مچائی ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں