شمالی کوریا کے دو میزائل تجربہ، امریکہ رینج میں آ گیا؟

9

شمالی کوریا نے دو دنوں میں مختصر فاصلے پر مار کرنے اور انتہائی طویل فاصلے تک مار کرنے والے الگ الگ میزائلوں کے کامیاب تجربے کیے ہیں۔جاپان نے طویل فاصلے تک مار کرنےوالے اس میزائل تجربے کو امریکہ کی سرمین پر خطرے کے حوالے سے دیکھا ہے۔ جاپان نے اس طویل فاصلے تک مار کرنے والے شمالی کوریا کے میزائل کو امریکہ کی زمین تک رسائی والا میزائل قرار دیا ہے۔

دوسری جانب قریبی علاقے میں یا مختصر فاصلے تک مار کرنے والا میزائل بھی علاقے میں موجود امریکی فوجیوں اور جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔شمالی کوریا نے ایک دن کے وقفے سے اپنے ان قریبی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے تجربوں پر کوئی مشترکہ بیان تو جاری نہیں کیا لیکن قریبی رینج تک مار کرنے والے میزائل کو امریکہ کی علاقے میں فوجی موجودگی کے حوالے سے ضرور اپنی دفاعی کوشش قرار دیا ہے۔

اگر ان دونوں کی رینج اور جاپان کے انتہائی دور تک مار کرنے والے میزائل پر تبصرے کو سامنے رکھا جائے تو شمالی کوریا کے ‘عزائم ‘ قابل فہم لگتے ہیں۔

امریکہ نے ان میزائل تجربوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی دھٹائی کے ساتھ خلاف ورزی کہہ کر ان کی سخت مذمت کی ہے۔امریکی ترجمان ایڈرین واٹسن نے مطابق اس صورت حال سے صدر جوبائیڈن کو آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ وہ قومی سلامتی سے متعلق اپنی ٹیم کے علاوہ اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اس بارے میں مشاورت کریں گے۔

رواں ہفتے کے دوران امریکہ کے لیے دو انتہائی ناپسندیدہ ملکوں ایران اور شمالی کوریا نے اپنے خطرناک میزائلوں کے تجربے کیے ہیں۔ یقیناً یہ امریکہ کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔ ایران کی ایک نیم سرکاری خبرساں نیوز ایجنسی نے پاسدران کے حوالے ہائپر سونک میزائل کی تیاری مکمل کر لینے کا اعلان کیا ہے۔

جبکہ شمالی کوریا کے تازہ آزمائے گئے میزائل کی رینج 15000 کلو میٹر ہے۔ جاپان کے وزیر دفاع یاسوکازو کے مطابق یہ میزائل امریکی سرزمین تک پہنچنے کی کافی اہلیت رکھتا ہے۔

جاپان کے چیف کابینہ سیکرٹری ہیروکازو ماتسونو نے شمالی کوریا کے اس میزائل کے بارے میں یہ میزائل پروجیکٹائل میزائلوں کی کمیونٹی انٹر نیشنل بلیسٹک میزائلز سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے 6000 کلو میٹر تک کی بلندی کو چھو لیا ہے۔ جبکہ ایک ہزار کلو میٹر تک اونچی موثر رینج کا احاطہ کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا یہ کورین میزائل تقریبا 200 کلو میٹر مغربی اوشیما کے جزیرے میں لینڈ کیا ہے۔اس انتہائی دور تک مار کرنے والے شمالی کوریا کےاس میزائل کو جنوبی کوریا نے ایک بین البر اعظمی میزائل قرار دیا ہے۔

شمالی کوریا نے چھوٹی رینج کے میزائل کا تجربہ کیا تو اس کی طرف سے امریکہ کو متوجہ کرتے ہوئے اپنی علاقائی سلامتی کے لیے ہرطرح کے رد عمل سے خبر دار کیا گیا ہے۔اس طرح شمالی کوریا نے دو دنوں میں مسلسل دو ایسے میزائل آزمائے ہیں جو امریکہ کی تشویش کا سبب فطری طور پر بن سکتے ہیں۔ شمالی کوریا کے وزیر خارجہ چاس سان ہوئی نے امریکہ کو علاقے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے پر انتباہ کیا ہے۔

امریکی ترجمان نے کہا شمالی کوریا کا یہ تجربہ خطے میں سلامتی کے مسائل اور خطرات کو بڑھانےوالا ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے ایرانی ہائپر سونک میزائل کے بارے میں شبہات ظاہر کیے تھے مگر شمالی کوریا کے ان میزائلوں کی صرف مذمت کی ہے شبہ ظاہر نہیں کیا ہے۔