شمالی کوریا: کم جانگ کی بیٹی کا اچانک منظرِعام پر آنا میزائل لانچ سے بھی زیادہ اہم کیسے؟

725

شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان پہلی مرتبہ کسی عوامی مقام پر اپنی جوان بیٹی کو ساتھ لے کر آئے ہیں اور یوں ان کی موجودگی کے بارے میں پھیلائی گئی افواہوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی بیٹی کا نام کم چو اے ہے اور وہ جمعے کو اپنے والد کے ساتھ ایک بین البراعظمی میزائل کے لانچ کی انسپیکشن کے لیے وہاں موجود تھیں۔

باپ بیٹی اس ٹیسٹ کے دوران ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے رہے، اس میزائل ٹیسٹ کی امریکہ کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔

کم جانگ ایک ایسے ملک کے سربراہ ہیں جو دنیا کی سب سے خفیہ ریاستوں میں سے ایک ہے اور ان کی اپنی ذاتی زندگی کو بھی مخفی رکھا گیا ہے۔
شمالی کوریا کی ریاستی خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے ایسی متعدد تصاویر چھاپی ہیں جس میں دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ اس دوران اہلکاروں سے بات کر رہے ہیں اور میزائلوں کا معائنہ بھی کر رہے ہیں اور پھر اس میزائل کو مخصوص مقام پر کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں۔

کیا کم کی بیٹی کا منظرِعام پر آنا میزائل لانچ سے بھی زیادہ دلچسپ؟
سیول کے لیے بی بی سی کی نامہ نگار جین مکینزی کا تجزیہ

کم جانگ ان کی بیٹی کے منظرِعام پر آنے سے شمالی کوریا کے امور کے ماہرین کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے اور وہ اسے ملک کی جانب سے اپنے سب سے طاقتور برِاعظمی بیلسٹک میزائل کے لانچ سے بھی زیادہ بڑی خبر قرار دے رہے ہیں۔

اس میزائل کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ امریکہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ شاید اس لیے کیونکہ یہ اس حکومت کے مستقبل اور اس کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ یا کم سے کم یہ متعدد نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

اول تو یہ کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بیٹی کو کم جانگ ان کی جانشین کے طور پر چُن لیا گیا ہے اور وہ ایک دن شمالی کوریا کی رہنما ہوں گی؟

یہ عین ممکن ہے۔ یہ ایک سیاسی خاندان ہے اور کِم یہ چاہیں گے کہ ان بچوں میں سے کوئی ایک ہی آئندہ برسوں میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالے۔
دوسرا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ انھیں منظرِ عام پر لانے کے لیے یہی وقت کیوں چنا گیا ہے۔

وہ ابھی نوجوان ہیں۔ اگر وہ انھیں اقتدار منتقل کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اپنے صحت کے مسائل ہیں؟

ان کی صحت کے بارے میں پہلے بھی متعدد مرتبہ قیاس آرائیاں کی جا چکی ہیں کیونکہ ان کی صحت کے عنوان کو حکومت کے استحکام کے بارے میں بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔

تیسرا یہ کہ یہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں ہمیں کیا بتاتا ہے؟ انھیں ایک انتہائی اہم لانچ کے وقت منظرِعام پر لانا یہ بتاتا ہے کہ وہ ایک دن ملک کے ہتھیاروں کو توسیع دینے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

حال ہی میں کم جانگ ان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ کسی بھی حالت میں جوہری ہتھیاروں پر کام کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

یہ دنیا کو بتانے کا ایک طریقہ ہے کہ آئندہ نسلوں تک جوہری ہتھیاروں پر کام جاری رہے گا۔
واشنگٹن میں سٹمسن سینٹر میں شمالی کوریا کے ماہر مائیکل میڈن کا کہنا ہے کہ چو اے کی عمر 12 سے 13 برس کے درمیان ہے۔

ان کے نزدیک چو اے کو منظرِ عام پر لا کر کم جانگ ان یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ’چوتھی نسل میں اقتدار کی منتقلی میرے ذریعے ہی ہو گی۔‘

ستمبر میں اکثر شمالی کوریا کے ماہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ چو اے کو ملک کے قومی دن کے موقع پر بھی منظرِ عام پر لایا گیا تھا تاہم اس وقت اسے قیاس آرائی قرار دیا گیا تھا اور شمالی کوریا کی لیڈرشپ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی تھی کہ یہ واقعی ان کی بیٹی تھیں۔

پہلی مرتبہ چو اے کی موجودگی کا علم سنہ 2013 میں ہوا تھا جب ریٹائرڈ امریکی باسکٹ بال سٹار ڈینس راڈمین نے شمالی کوریا کا متنازع دورہ کیا تھا۔

راڈمین نے کہا تھا کہ انھوں نے اس دوران کِم کے خاندان کے ساتھ وقت گزارا، سمندر کے کنارے آرام کیا اور ان کی ’بیٹی چو اے کو گود میں اٹھایا۔‘

ماہرین کا ماننا ہے کہ کم جانگ ان کے کل تین بچے ہیں جن میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جبکہ چو اے ان میں سب سے بڑی ہیں۔

تاہم کم جانگ ان اپنی فیملی کے بارے میں خاصے محتاط ہیں اور اس حوالے سے معلومات خفیہ رکھتے ہیں اور ان کی بیوی ری سول جو کو بھی ان کی شادی کے کئی برس بعد تک خفیہ رکھا گیا تھا۔