شعبہ میڈیا جماعت اسلامی ہند ناندیڑکے زیراہتمام میڈیاورکشاپ میں محمدتقی ‘ ضمیراحمدخاں ودیگر کے لکچر

ناندیڑ:14جون(ورق تازہ نیوز)شعبہ میڈیا جماعت اسلامی ہند ناندیڑ کی ,جانب سے میڈیا سے دلچسپی رکھنے والی جماعت کی میڈیا ٹیم (مرد و خواتین) کیلئے 12 جون کو آفس جماعت اسلامی ہند ناندیڑ میں میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا آغاز تذکیر بالقرآن سے ہوا جیسے عرشیہ باجی نے پیش کیا آپ نے سورہ الحجرات کے ذیل میں بتایا کہ کسی بھی واقعہ کو اس وقت تک قبول نہ کیا جائے جب تک اس واقعہ کی معتبر ذرائع سے تحقیق نہ ہو۔ آپ نے موجودہ میڈیا کے واقعات کو بھی اسی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنے کیلئے کہا۔ اس ورکشاپ میں ناندیڑ کے مشہور و معروف اردو اخبار روزنامہ ورق تازہ کے ایڈیٹران چیف جناب محمد تقی صاحب اور الیکٹرانک میڈیا میں اپنا نام بنا چکے جناب ضمیر احمد خان (جرنلسٹ نیوز 18اورMCN) نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ حالات حاضرہ میں جہاں باطل میڈیا پورے زور کے ساتھ اسلام مخالفت ذہن سازی میں دن رات لگا ہوا ہے۔

وہیں اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کی غرض سے موجودہ دور کے موثر میڈیا(پرنٹ میڈیا’ الیکٹرانک میڈیا’ سوشل میڈیا) میں مہارت حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اسی غرض کی خاطر میڈیا ٹیم کے لیے ایک میڈیا ورکشاپ دفتر جماعت اسلامی ہند نئی آبادی میں رکھا گیا تھا۔جس میں جناب محمد تقی صاحب (ایڈیٹران چیف روز نامہ ورق تازہ) نے پرنٹ میڈیا سے متعلق رہنمائی کرتے ہوئے بتلایا کہ نیوز رپورٹینگ کس طرح کی جاتی ہے اور اس پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انھوں نے خبر نویسی کے عنوان پر لکچردیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ بات ذہین نشین رکھنا ضروری ہے کہ افواہ خبر نہیںہوسکتی ۔خبرنویسی سے قبل نامہ نگار کوچاہئے وہ جائے موقع پر پہونچ کر واقعہ اور حالات کی درست جانکاری حاصل کرے۔ انگریزی شعبہ صحافت میں خبر کے تعلق سے پانچ ڈبلیو (W) اور ایک ایچ(H) مشہور ہیں۔ پانچ ڈبلیو میں سے پانچ سوال تیار کئے گئے ہیں ۔پہلا ڈبلیوwhat?‘دوسرا ڈبلیوwhere? تیسراwhen?‘ چوتھا ڈبلیو who? پانچواں ڈبلیوwhy? اور ایک ایچ سے How? سوال تیار کیاگیا ہے۔اردو میں چھ ”ک “ ہیں۔پہلے ک سے سوال تیار کیا گیا ہے کہ کیا واقع ہوا ؟دوسرا ک سے کہاں ہوا؟ تیسرا ک کب ہوا ؟ چوتھاک کون لوگ تھے؟پانچواں ک کیوں ہوا؟ اورچھٹا ک کیسے ہوا؟ ان چھ سوالات کے جوابات خبر میں تلاش کئے جانے پر اگردرست جوابات موصول ہوتے ہیں تو سمجھو کہ خبرمکمل ہے۔ محمد تقی نے بورڈ پر خاکے تیار کرکے خبرنویسی کے بارے میں معلومات دیں۔ انھوں نے بتایا کہ خبر کی زبان اور روزمرہ کی زندگی میں بولی جانیوالی زبان ہونی چاہئے ۔تاکہ خبر کو کم پڑھا لکھا قاری بھی آسانی سے سمجھ سکے ۔

خبر کی ابتداءمیںواقعہ کی اہم ترین بات کا ذکرکیا جائے اس کے بعد کم اہم باتیں تحریر کی جائیں۔محمدتقی نے بتایا کہ اردو کا پہلا اخبار کلکتہ سے 27 مارچ 1822 کو ہری ہر دت نامی صحافی نے جاری کیاتھا۔اس طرح 2022ءمیں اردوصحافت نے 200سال کااپنا کامیاب سفر پوراکیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق جناب ضمیر احمد خان (جرنلسٹ نیوز 18 اورMCN)نے فوٹوگرافی، ویڈیو ایڈیٹنگ،اور وائس اوور کے تئیں جانکاری دی۔ سوشل میڈیا میں کس طرح کام کیا جانا چاہیے اس سے متعلق جناب رئیس خان(میڈیا سیکریٹری ناندیڑ) نے تحریکی مقصد کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال پر روشنی ڈالی۔ اس ورکشاپ کے اختتامی خطاب میں محترم امیر مقامی جماعت اسلامی ہند ناندیڑ ریاض الحسن عامر صاحب نے میڈیا کی اہمیت،ضرورت اور تقاضوں پر اظہار خیال کیا۔ اس کے بعد سلیم صاحب میڈیا سکریٹری کے شکریہ کے ساتھ اختتام ہوا۔