انا ڈی ایم کے پرچم والی گاڑی کا استعمال‘ اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل آمد سے سیاسی اتھل پتھل کا امکان

کرشنا گیری ( ٹاملناڈو ) / بنگلورو ۔ آل انڈیا انا ڈی ایم کے سے خارج کردہ لیلار وی کے ششی کلا بنگلورو کی جیل میں چار سال قید کی سزا مکمل کرنے کے بعد آج ٹاملناڈو واپس آگئیں جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا ۔ ان کی آمد سے یہ اشارے ملے ہیں کہ ان کا برسر اقتدار انا ڈی ایم کے سے ٹکراو ہوگا جس پارٹی پر کبھی ان کا کنٹرول تھا ۔ ششی کلا آنجہانی چیف منسٹر جے جئے للیتا کی قریبی ساتھی تھیں اور وہ کرشنا گیری ضلع میںاتھی پلی کے مقام پر کرناٹک سے ٹاملناڈو میں داخل ہوئیں۔ ان کی آمد کے ساتھ ہی ان کے حامی خوشی سے جھوم اٹھے ۔ وہ ڈھول باجے بجا کر رقص کرنے لگے اور انہوں نے ششی کلا کے قافلہ پر پھولوں کی پتیاں برسائیں۔ بعد ازاںششی کلا نے ہوسور ٹاون کی ایک مندر میں پوجا کی ۔ ان کے بھانجے ٹی ٹی وی دیناکرن بھی ان کے ساتھ تھے ۔ دیناکرن نے بتایا کہ ششی کلا آل انڈیا انا ڈی ایم کے کے بانی و آنجہانی چیف منسٹر ایم جی رامچندرن کی قیامگاہ بھی جائیں گی ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ برسر اقتدار آل انڈیا انا ڈی ایم کے کے کئی کارکن ششی کلا کے استقبال کیلئے آئے تھے اور ششی کلا کی کار میں کچھ خرابی پیدا ہونے کے بعد انہوں نے انا ڈی ایم کے کارکن کی کار میں ہی سفر کیا ہے ۔ اس دوران آل انڈیا انا ڈی ایم کے کا کہنا ہے کہ ششی کلا کا اور ان کے ساتھیوں کا پارٹی سے کوئی تعلق نہے ہے اور ان کیلئے پارٹی پرچم کا استعمال کرنا غیر قانونی ہے ۔ ششی کلا نے انا ڈی ایم کے کارکن کی کار میںسفر کیا جس پر پارٹی پرچم لگا ہوا تھا ۔ ششی کلا کی ٹاملناڈو واپسی پر سیاسی حلقوں میں قریبی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ان کی آمد کے سیاسی اثرات کا جائزہ لیا جاسکے ۔ ان کی ٹاملناڈو واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جبکہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کیلئے چند ماہ کا وقت رہ گیا ہے ۔ ششی کلا نے 66.65کروڑ کے غیر محسوب اثاثہ جات میںچار سال قید کی سزا مکمل کی ہے ۔ وہ فبروری 2017 سے جیل میں تھیں اور انہیں 27 جنوری کو رہا کیا گیا تھا ۔ تاہم اس کے بعد سے بھی وہ گورنمنٹ وکٹوریا ہاسپٹل ہی میں تھیں کیونکہ وہ کورونا پازیٹیو قرار پائی تھیں۔ انہیں31 جنوری کو ہاسپٹل سے ڈسچارچ کیا گیا تھا جس کے بعد وہ ایک ریسارٹ میں مقیم تھیں۔ پیر کی صبح وہ ریسارٹ سے روانہ ہوئیں اور ان کے ساتھ دیناکرن بھی موجود تھے ۔ وہ تقریبا 200 گاڑیوں کے قافلہ کے ساتھ روانہ ہوئی تھیںجبکہ ان کے حامیوں نے ان کی تائید میںنعرے بھی لگائے تھے ۔ ٹاملناڈو کیلئے روانگی سے قبل انہوں نے جئے للیتا کے ایک پورٹریٹ پر پھول بھی چڑھائے ۔ سبز رنگ کی ساڑی پہنے وہ چہرے پر ماسک لگائے ہوئی تھیں اور انہوں نے ایک ایسی کار میں سفر کیا جس پر آل انڈیا انا ڈی ایم کے کا پرچم لگا ہوا تھا ۔ انا ڈی ایم کے نے حال ہی میں ٹاملناڈو پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ پارٹی کے ارکان نہیں ہیں انہیں پارٹی پرچم کے استعمال سے روکا جائے ۔ ششی کلا نے 31 جنوری کو بنگلورو میں بھی پارٹی پرچم لگی ہوئی کار میں سفر کیا تھا ۔ تاہم دینا کرن نے اس کی مدافعت کی ہے اور کہا کہ وہ اب بھی پارٹی کی جنرل سکریٹری ہیں ۔ ان کے اخراج کے خلاف درخواستیں عدالتوں میں زیر التواء ہی ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں