نئی دہلی۔سپریم کورٹ نے منگل کے روز ششی تھرور‘ ایم پی‘ صحافیوں‘ راج دیپ سردیسائی‘ ونود جے جوسی‘ رینال پانڈے‘ ظفر آغا‘ اننت ناتھ اورپریش ناتھ کی گرفتاری پر روک روک لگائی ہے جن پر ٹریکٹر ریالی کے دوران ایک کسان کی موت کے متعلق ٹوئٹس کرنے اور رپورٹس پر متعدد ایف ائی آر درج کئے گئے تھے۔

متعدد ایف ائی آر ایس ان کے خلاف سیڈیشن‘ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنا وغیر ہ یوپی اور ایم پی میں درج کرائے گئے تھے۔ایک ایف ائی آر نوائیڈا اور چار ایف ائی آر ایس مدھیہ پردیش کے بھوپال‘ حسنہ آباد‘ مولتائی اور بیتول میں درج کرائے گئے تھے۔

نوائیڈا میں ایف ائی آر دہلی کے قریب رہنے والے ایک شہری کی شکایت پر درج کرائی گئی تھی‘جس نے الزام لگایاکہ ”ڈیجیٹل براڈکاسٹر“ اور ”سوشیل میڈیاپوسٹس“ ششی تھرور اور صحافیوں“جنھوں نے دعوی کیاہے کہ دہلی پولیس نے ایک کسان کو گولی مارکر ہلاک کردیاہے‘جس لال قلعہ میں ٹریکٹر ریالی کے دوران لال قلعہ او رتشدد محاصرہ میں مدد کررہے تھے۔

شہر کے ساکن چرنجیوی کمار کی شکایت پر دہلی میں ایف ائی آر نے درج کی ہے‘ مذکورہ پولیس نے مسٹر ششی تھرور اور دیگر نے دہلی سنٹرل کے ائی ٹی او میں ایک احتجاجی کی موت پر لوگوں کو گمراہ کیاہے جہاں پر ہزاروں کسان داخل بشمول لال قلعہ داخل ہوگئے تھے‘ جو ٹریکٹر ریالی کے لئے متعین راستے پر جانے کے لئے تیار نہیں تھے۔

ان ایف ائی آر میں کہاگیاہے کہ مذکورہ ملزمین نے اپنے ”فرضی‘ گمراہ کن اور غلط“ ٹوئٹس کے ذریعہ اس کسان کے موت کو غلط رخ دینے کی کوشش کی او رمرکزی حکومت کی ہدایت پر دہلی پولیس کی کارستانی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے


اپنی رائے یہاں لکھیں