مرکزی حکومت و دوسروں کو چیف جسٹس کی قیادت والی بنچ کی نوٹس ۔ جواب طلب کیا گیا

نئی دہلی ۔ سپریم کورٹ نے آج کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور اور چھ صحافیوں بشمول راج دیپ سر دیسائی کی گرفتاری پر حکم التواء جاری کردیا ہے ۔ ان تمام کے خلاف یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی میں پیش آئے تشدد کے سلسلہ میں گمراہ کن ٹوئیٹس کرنے پر ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی قیادت والی ایک بنچ نے ششی تھرور ‘ راج دیپ سر دیسائی اور صحافیوں مرنال پانڈے ‘ ظفر آغا ‘ پریس ناتھ ‘ ونود کے جوس اور اننت ناتھ کی جانب سے داخل کردہ درخواستوں پر نوٹسیں جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور دوسروں سے جواب طلب کیا ہے ۔ جب بنچ نے کہا کہ اس مسئلہ پر عدالت کی جانب سے نوٹس جاری کی جا رہی ہے تو سینئر وکیل کپل سبل نے ششی تھرور کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ اس دوران تمام افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جانی چاہئے ۔ بنچ نے اس پر کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے ۔ اس میں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ بنچ میں جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنین بھی شامل تھے ۔ کپل سبل نے بنچ کے اس تجزیہ پر اعتراض کیا کہ نوٹس کی اجرائی کے بعد درخواست گذاروں کے ساتھ کچھ انتقامی کارروائی نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا دہلی پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے ہیں اور دوسری ریاستوں کی پولیس کسی بھی وقت ان کے دروازے پر آ کر انہیں گرفتار کرسکتی ہے ۔ سبل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس دوران کسی بھی کارروائی پر روک لگائی جانی چاہئے ۔ اس پر بنچ نے سالیسیٹر جنرل سے سوال کیا کہ آیا آپ ان لوگوں کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ وہ عدالت میں موجود ہیں اور اس مسئلہ پر کل سماعت ہوسکتی ہے ۔ بنچ نے پھر سوال کیا کہ آیا وہ تمام متعلقہ ریاستوں کی جانب سے پیش ہوئے ہیں مسٹر مہتا نے کہا کہ وہ تمام ریاستوں کی جانب سے پیش ہونگے ۔ سبل نے دلیل پیش کی کہ تمام درخواست گذاروں کی گرفتاری پر روک لگائی جانی چاہئے ۔ اس میں کیا قباحت ہے ؟ ۔ بنچ نے کہا کہ اس مسئلہ پر دو ہفتوں کے بعد سماعت ہوگی اور اس دوران تمام کی گرفتاریوں پر التواء رہے گا ۔ سینئر وکیل مکل روہتگی نے ایک صحافی کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہونچی ہے ۔ در اصل 26 جنوری کے واقعات کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کچھ لوگوں نے فائرنگ کی ہے ۔ بعد میں اس کی تصحیح کردی گئی ۔ دہلی پولیس نے 30 جنوری کو ششی تھرور ‘ راج دیپ سردیسائی اور دوسروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا ۔ قبل ازیں ششی تھرور و چھ صحافیوں کے خلاف نوئیڈا کی پولیس نے بھی مبینہ غداری جیسے الزامات عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا تھا ۔ مدھیہ پردیش پولیس نے بھی ششی تھرور اور چھ صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور کہا کہ انہوں نے کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد کے موقع پر گمراہ کن ٹوئیٹس کئے تھے ۔ ششی تھرور نے سپریم کورٹ میں سندیپ کپور کے ذریعہ درخواست دائر کرتے ہوئے ان کے ٹوئیٹس پر مختلف ریاستوں میں مقدمات اور ایف آئی آر کے اندراج کو چیلنج کیا تھا ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں