ناندیڑ:5 مارچ(ورق تازہ نیوز) ایڈیشنل سیشن اسپیشل پوکسو جج رویندر پانڈے نے ایک 75 سالہ شخص کو گنے کے مزدور کی 9 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزام میں 3 سال کی سخت مشقت اور 2,000 روپے نقد جرمانے کی سزا سنائی ہے۔مانڈوی تھانے کی حدود میں رہنے والی ایک خاتون نے شکایت درج کروائی تھی کہ وہ اور اس کا خاندان گنے کے مزدور ہیں۔ نومبر 2019 میں، اس کا شوہر بڑھئی کا کام کرنے کے لیے دوسری ریاست چلا گیا۔ وہ روئی بیچنے گاو ں جایا کرتی تھی۔

جب خاتون 14 نومبر 2019 کو شام کو گھر آئی تو اس نے اپنی 9 سالہ بیٹی کولڑکھڑاتے ہوئے چلتا دیکھا۔ جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو لڑکی نے بتایا کہ اسے کسی خفیہ جگہ پر خارش ہو رہی ہے۔ جب اس نے اپنی ماما کے گھر بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کی بیٹی اس طرح کیوں چل رہی ہے تو ماما نے لڑکی سے پوچھا اور اس نے جو حقیقت بتائی وہ بھیانک تھی۔ لڑکی کے مطابق انکے ساتھ ہی رہنے والا معمر شخص اسے ہراساں کر رہا ہے۔ اس نے مجھے پھل دینے کے لیے گھر بلایا اور مجھے نیچے گرایا اور جنسی زیادتی کی۔ اس کی وجہ سے اس کا انڈرویئر خون سے رنگا ہوا تھا۔ مانڈوی پولیس نے خاتون پولیس کانسٹیبل کے سامنے جواب درج کیا اور کسان دھرم منیشور (75) کے خلاف سیکشن 75/2019 سیکشن 376 (a) (b) اور بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام ایکٹ 2012 کی دفعہ 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کیا۔

اس جرم کی جانچ اسسٹنٹ انسپکٹر آف پولیس سنتوش کیندر نے کی۔سنتوش کیندرا نے 75 سالہ کسان دھرم مننیشور کو گرفتار کیا اور تفصیلی تفتیش کرنے کے بعد شواہد کا ایک سلسلہ جوڑا اور عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ کسان منیشور کو گرفتاری کے بعد سے ضمانت نہیں دی گئی ہے۔ کیس میں گیارہ گواہان پر جرح کی گئی۔ دستیاب شواہد کی بنیاد پر جج رویندر پانڈے نے کشن منیشور کو 3 سال کی سخت مشقت اور 2000 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس معاملے میں، ایڈوکیٹ ایم اے بٹولا (ڈانگے) نے پیرویک کی۔ دوسری طرف مانڈوی کے اسسٹنٹ پولس انسپکٹر ملہاری شیوارکر کی رہنمائی میں پولیس ملازمشیخ قدیر نے اہم رول ادا کیا۔ بچی ابھی بھی چلڈرن ہوم میں ہے۔