شدید احتجاج کے درمیان مرکز کی ’اگنی پتھ‘ اسکیم میں تبدیلی، عمر کی حد میں توسیع

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ملک گیر احتجاج کے درمیان ‘اگنی پتھ’ فوجی بھرتی اسکیم کے لیے عمر کی حد 21 سال سے بڑھا کر 23 سال کر دی۔ حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے لیا گیا ہے کیونکہ پچھلے دو سالوں میں کوئی بھرتی نہیں ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے فوج میں بھرتی کے لیے ‘اگنی پتھ’ اسکیم متعارف کرائی ہے، جس کی وجہ سے جمعرات کو یوپی-بہار سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ کئی مقامات پر ٹرینوں کو آگ لگا دی گئی اور بعض مقامات پر پتھراؤ کیا گیا۔

حکومت نے جمعرات کی رات اگنی پتھ اسکیم میں پہلی تبدیلی کا اعلان کیا، تاہم عمر کی حد میں صرف ایک بار توسیع کی گئی ہے، اس کے بعد عمر کی حد 21 سال ہی رہے گی۔

اگنی پتھ اسکیم کے خلاف کئی ریاستوں میں ہو رہے احتجاج کے درمیان حکومت نے واضح کیا ہے کہ نیا ماڈل نہ صرف مسلح افواج میں نئی صلاحیت پیدا کرے گا، بلکہ یہ نوجوانوں کے لیے نجی شعبے کے راستے بھی کھولے گا اور ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والے مالیاتی پیکج سے انہیں کاروباری بننے میں مدد دے گا۔ تاہم حکومت کے دلائل کے باوجود نئی بھرتی اسکیم کے خلاف کئی ریاستوں میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔

بہار میں گزشتہ روز مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور عمارتوں اور گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ ریلوے اسٹیشن پہنچنے پر ٹرین کے ڈبوں کو آگ لگا دی گئی جس سے ریل اور سڑک کی آمدورفت میں خلل پڑا۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (لا اینڈ آرڈر) سنجے سنگھ نے کہا، ’’اب تک ہم نے تشدد کے سلسلے میں 125 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ دو درجن ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ریاست بھر میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 16 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

مظاہرین نے مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کی چھپرا واقع رہائش میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ جبکہ، نوادہ میں ایک اور خاتون رکن اسمبلی پتھراؤ کے واقعہ میں زخمی ہو گئی، یہاں کے پارٹی دفتر کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔ نوادہ کے وارث علی گنج اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کی رکن اسمبلی ارونا دیوی پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ ایک کیس کے سلسلے میں ضلع عدالت جا رہی تھیں۔ اس دوران ان کی گاڑی کو مظاہرین نے ریلوے کراسنگ کے قریب گھیر لیا اور پتھراؤ کیا جس سے وہ، ان کا ڈرائیور، دو سیکورٹی اہلکار اور کئی نجی ملازمین زخمی ہو گئے۔

ادھر، اتر پردیش کے آگرہ میں سرکاری بس پر مظاہرین نے پتھراؤ کیا، گورکھپور، علی گڑھ اور متھرا میں نوجوانوں نے منصوبے کے خلاف سڑک بلاک کردی۔ بلیا میں نوجوانوں کے مظاہرے کی وجہ سے سوتنترتا سینانی ایکسپریس کو روکنا پڑا۔ دریں اثنا، راجدھانی لکھنؤ، سہارنپور، فیروز آباد اور بلند شہر میں بھی نوجوانوں نے سڑک پر جام لگا کر نعرے بازی کی۔