شاہ سلمانتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionگذشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور صدر اپنا پہلا غیرملکی دور سعودی عرب کا کیا تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے قریبی اتحادی سمجھے جانے والے ملک سعودی عرب کے بارے میں ایک خلاف مصلحت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے سعودی حکمران شاہ سلمان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ امریکی فوج کی حمایت کے بغیر ’دو ہفتے‘ بھی اقتدار میں نہیں سکتے ہیں۔

منگل کو ریاست مسیسپی کے شہر ساؤتھ ہیون میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں۔ کیا آپ کہیں گے کہ وہ امیر ہیں۔ اور مجھے بادشاہ پسند ہے، بادشاہ سلمان۔ لیکن میں نے کہا تھا کہ ’بادشاہ۔۔۔ ہم تمھاری حفاظت کر رہے ہیں۔ ہمارے بغیر تم دو ہفتے بھی نہیں رہو گے۔ تمھیں اپنی فوج کے لیے معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ انھوں نے ایسا سعودی بادشاہ سے کب کہا تھا۔

اس تلخ بیان کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

گذشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور صدر اپنا پہلا غیرملکی دور بھی سعودی عرب کا کیا تھا۔

ٹرمپتصویر کے کاپی رائٹREUTERS
Image captionاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اوپیک رکن ممالک ‘معمول کے مطابق پوری دنیا کو لوٹ رہے ہیں’

سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو شاہ سلمان سے بات کی تھی اور انھوں نے تیل کی منڈیوں میں استحکام کے لیے تیل کی فراہمی کوششوں اور عالمی معاشی ترقی کے معاملات پر بات چیت کی۔

سعودی عرب دنیا میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک اور اوپیک کا اہم رکن ہے، جسے ٹرمپ کی جانب سے تیل کی زیادہ قیمتوں پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اوپیک رکن ممالک ’معمول کے مطابق پوری دنیا کو لوٹ رہے ہیں۔‘

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم ان میں سے بیشتر ممالک کا بلا وجہ دفاع کر رہے ہیں، اور وہ ہم سے اس کا فائدہ بھاری قیمتوں میں ہمیں تیل دے کر حاصل کر رہے ہیں‌۔ یہ اچھا نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں وہ قیمتیں نہ بڑھائیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ قیمتیں میں کمی شروع کریں۔‘ بشکریہ بی بی سی اُردو


اپنی رائے یہاں لکھیں