• 425
    Shares

متھرا: شری کرشن جنم بھومی سے متعلق معاملہ میں عدالت سے شاہی مسجد عید گاہ کے اندر ہندو مندر کے نشانات وغیرہ کی حقیقت کی جانچ کے لئے ایک ماہرین کی کمیٹی بنانے کے لئے سول جج سینئر ڈویزن کی عدالت میں عرضی دی گئی۔ عدالت اس معاملے میں 18 اکتوبر کو اگلی سماعت کرے گی۔

وکیل مہندر پرتاپ سنگھ سمیت پانچ فریقین نے ٹھاکر کیشو دیو جی مہاراج کی 13.37 ایکڑ زمین کے ایک حصہ میں بنی شاہی مسجد کو ہٹانے سے متعلق معاملہ میں آج دائر کی گئی عرضی میں کہا ہے کہ شاہی مسجد عیدگاہ میں نہ صرف ہندو مندر کے شنکھ، اوم جیسے نشانات موجود ہیں بلکہ مسجد کا واستو بھی ہندو مندر جیسا ہے۔

ان نشانات کو مٹانے سے روکنے کے لئے سٹی مجسٹریٹ، آثار قدیمہ محکمہ کے سینئر حکام، ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سطح کے ایک پولیس افسر اور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف انجینئر کی ایک اعلی سطحی کمیٹی بنا کر اس سے مسجد میں بنے مذکورہ نشانات کی جانچ کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔