متھرا۔جمعہ کے روز متھرا کی ایک عدالت نے17ویں صدی کے شاہی مسجد کو بھگوان کرشنا کے جائے پیدائش کترا کیشو دیو مندر سے کافی دور ہے کی منتقلی پر سنوائی ملتوی کردی ہے۔

سینئر سیول جج نیہا بناودیا نے وکیل مہیندرپرتاب سنگھ اوردیگر چار لوگوں کی درخواستوں کو 9مارچ تک سنوائی کے لئے ملتوی کردیا‘ ضلع گورنمنٹ کونسل (سیول) سنجائی گاؤر نے یہ بات کہی۔گور نے کہاکہ مذکورہ عدالت نے ان درخواستوں پر ہندو نشانیوں کی مسجد کے مقام پر جانچ کے لئے عدالت کے کمشنر کے تقرر پر وکیلوں کی جرح سننے کے بعد سنوائی ملتوی کردی ہے۔

وکیل سنگھ‘ سری کرشنا جنم بھومی مکتی اندولن سمیتی کے صدر نے 23ڈسمبر کے روز متھرا عدالت کی ایک 1967کے احکامات کو کلعدم کرنے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایاتھا‘

جس میں شاہی عیدگاہ انتظامی کمیٹی اور سری کرشنا جنم استھان سیو ا سنستھان کے درمیان اراضی معاہدے کی توثیق کی تھی‘ جو مندر کے قریب مسجد کی موجودگی کی اجازت پر مشتمل ہے۔

سنگھ نے 8فبروری کے روزعدالت سے درخواست کی تھی کہ مبینہ طور پر مسجد میں شامل ہندو مندر کی جانچ کے لئے ایک کمشنر کا تقرر عمل میں لائے۔

شاہی مسجد عیدگاہ انتظامی کمیٹی کے وکیل نیرج شرما کو درخواست کی ایک کاپی سربراہ کرنے کے بعد مذکورہ عدالت نے سنگھ کی درخواست پر سنوائی ملتوی کردی‘ عیدگاہ انتظامی کمیٹی کے وکیل نے سنگھ کے استدلال پر یہ کہتے ہوئے اعتراض جتایاتھا کہ انہوں نے کاپی فراہم نہیں کی ہے۔

عدالت نے سنگھ سے استفسار کیاکہ کورٹ کمشنر کے لئے دی گئی ان کی درخواست کی ایک کاپی ہندومہا سبھاکے وکیل سنجے شرما کو بھی فراہم کی جس نے عدالت سے اس بات کی منطوری مانگی ہے کہ سنگھ کی درخواست پر ان کے وکیل کو بھی پارٹی بنایاجائے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں