شاہین باغ کی طرز پر مرادآباد میں بھی سی اے اے کے خلاف مظاہرہ شروع

مرادآباد: سی اے اے، این آر سی و این پی آر کی مخالفت کو لے کر ملک بھر میں احتجاج جاری ہیں۔ ملک بھر میں ہونے والے ان احتجاجات کی گرماہٹ دنیا بھر کے ممالک میں بھی دیکھی جارہی ہے۔ ملک کی کئی سیاسی و سماجی تنظیموں کی اپیل پر ملک بھر میں بند کے اعلان کا اثر صاف دیکھائی دیا۔

تصویر سوشل میڈیا

مرادآباد میں بھی کاروباری ادارے و بازار بند رہے خاص طور سے مسلم علاقوں میں پوری طرح سے سناٹا پسرا رہا۔ شاہین باغ، لکھنؤ گھنٹہ گھر و دیگر شہروں کی طرز پر مرادآباد عیدگاہ میں بھی چند خواتین نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جس کی خبر پھیلتے ہی عیدگاہ میں خواتین کے ساتھ ساتھ بزرگوں و نوجوانوں کی بھیڑ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کی تعداد میں تبدیل ہوگئی۔

سابق شہر ایم ایل اے حاجی یوسف انصاری بھی احتجاجیوں کے بیچ میں بیٹھ گئے اور کہا کہ حکومت اپنے غلط فیصلے بھی عوام پر تھوپنا چاہتی ہے۔ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج اس کی کھلی دلیل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک کے عوام سی اے اے، این آرسی اور این پی آر نہیں چاہتے تو حکومت کو عوامی حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔

عیدگاہ میں ہونے والے اس احتجاج کی خبر جیسے ہی عوامی نمائندوں کو ملی تو اتنے دنوں سے گہری نیند میں سوئے عوامی نمائدے دوڑ کر وہاں پہنچنا شروع ہوگئے۔ دیہات ایم ایل اے حاجی اکرام قریشی عیدگاہ پہنچے اور عوامی جم غفیر کا چکر لگا کر لوٹ گئے، بعد میں مرادآباد پارلیمانی ممبر ڈاکٹر ایس ٹی حسن بھی عیدگاہ پہنچے اور احتجاجیوں کے بیچ جاکر اپنی حمایت کا احساس کرایا۔

یہ بھی پڑھیں:  اہم خبریں: دہلی میں بھارت بند کے دوران سی اے اے حامیوں کا ہنگامہ، پتھربازی کے بعد حالات کشیدہ

کانگریس کے ضلع صدر ونود گمبر و شہر صدر رضوان قریشی شروع سے ہی احتجاجیوں کے بیچ رہے اور ہر طرح سے اپنے تعاون کی یقین دہانی احتجاجیوں کو کرائی۔ احتجاج کے دوران ہندوستان زندہ باد، ہم ظالم حکمراں سے لے کر رہیں گے آزادی جیسے نعرے گونجتے رہے اور قومی پرچم فضا میں بلند کرتے رہے۔

سی اے اے کو لے کر ملک بھر میں گزشتہ تقریباً چھ ہفتوں سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، یوپی کے کئی اضلاع میں 20 سے زائد نوجوانوں کی جانیں بھی چلی گئیں مگر مرادآباد میں کوئی احتجاج سیاسی وسماجی رہنمائوں کی طرف سے نہیں ہوا جس کو لے کر مرادآباد کے عوام میں زبردست مایوسی، ناراضگی دیکھائی دے رہی تھی جو آج لاوے کی شکل میں عید گاہ میں دکھائی دیا۔

اس احتجاج کی کمان شاہین باغ کی طرز پر خواتین نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھی ہے۔ جہاں احتجاج میں موجود خواتین حکومت کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہا کر رہی ہیں وہیں یہ خواتین پُر امن احتجاج کی اپیل بھی کر رہی ہیں، ان سب کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حکومت ہٹ دھرمی چھوڑے اور سی اے اے جیسے فرقہ پرست قانون کو واپس لے اور این آر سی اور این پی آر پر پوری طرح سے روک لگائے۔

اس موقع پر کئی خواتین نے اپنے جذبات کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک اس وقت بھکمری و بے روز گاری کا شکار ہے مگر حکومت اس پر غور کرنے کے بجائے فرقہ پرستی کا ماحول بنانا چاہتی ہے تاکہ ان سے کوئی ان ضروری مدعوں پر سوال کھڑا نہ کرے۔ ان خواتین نے کہا کہ آج ہم سب اپنے گھر بار چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اس خون جما دینے والی ٹھنڈ میں کھلے آسمان کے نیچے اس لئے بیٹھے ہیں کہ ہمیں اپنے ملک سے پیار ہے۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ آج ہندوستان اور جمہوری نظام خطرے میں ہے جسے بچانا ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے اور ہم تب تک یہ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے جب تک ملک سے یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں:  دہلی اسمبلی الیکشن: عآپ امیدوار اکھلیش پر حملہ، 2015 الیکشن میں بھی ہوئی تھی پٹائی

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

HAJJ ASIAN

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔