شاہین باغ: سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کرنے کی خاتون مظاہرین کی تیاری

نئی دہلی: شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بدستور جاری ہے۔ یہاں کی سڑک کھولنے کے لئے دائر کی گئی درخواست پر سپریم کورٹ 17 فروری کو سماعت کرنے جا رہا ہے۔ شاہین باغ کی خاتون مظاہرین بھی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اپنا موقف پیش کرنے کے لئے تیاری کر رہی ہیں۔

مظاہرے کو رضاکارانہ طور پر تعاون کرنے والے سونو وارثی نے کہا، ’’شاہین باغ کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں سماعت ہونے جا رہی ہے اور مظاہرین کی طرف سے مقدمہ میں کوئی فریق نہیں ہے۔ محمود پراچہ خود کو ’لیگل اتھارٹی‘ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔‘‘ نہ تو ان کے پاس شاہین باغ کی مظاہرین کا دستخط شدہ وکالت نامہ ہے اور نہ ہی کوئی دیگر موزوں دستاویز۔ انہوں نے کہا ’’یہاں کا اصل چہرہ یہاں کی خواتین ہیں۔ ہم سپریم کورٹ میں بھی خواتین کو پیش پیش رکھیں گے۔ بالخصوص یہاں کی دادیاں یعنی ’دبنگ دادياں سپریم کورٹ میں موجود رہیں گی۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’شاہین باغ نے طے کیا ہے کہ اب ہم اپنا قانونی موقف سپریم کورٹ کے سامنے پیش کریں گے۔ اس کے لئے تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ہمارا جو بھی وکیل ہوگا وہ دادیوں کے ہمراہ پیش ہوگا۔ فی الحال تمام عوامل پر غور کیا جا رہا ہے۔ جلد ہی اس کے حوالہ سے آگاہ کیا جائے گا۔‘‘ شاہین باغ کی جانب سے وکیل انس تنویر صدیقی اپنا موقف پیش کریں گے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

یہ بھی پڑھیں:  شہریت قانون: شاہین باغ کے بعد ’خوریجی‘ بنا دہلی میں خاتون مظاہرین کا اہم مقام
HAJJ ASIAN

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔